اُس بچے کا لُعاب مبارک (یعنی تھوک شریف ) لے کر جب اپنے بَرَ ص والے مقامات پر لگایا تو وہ اُسی وَقۡت ٹھیک ہوگئی، اُس نے مَحَبَّت سے بچے کو سینے سے لگالیا۔ فرعون کو کچھ لوگوں نے کہا: کہیں یہ وہی بچہ نہ ہو جس سے ہم بچنا چاہتے ہیں ،ممکن ہے قَتۡل کے خوف سے اسے دریا میں ڈال دیا گیا ہو۔ فرعون نے یہ سن کر بچے کوذَبۡح کرنے کا ارادہ کرلیا لیکن حضرتِ سیّدتُنا آسِیہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا نے فرعون کو سمجھا بجھا کر منا لیا اور اُس بچے کواپنا بیٹا بنالیا۔ (تفسیرِ کبیر ج۸ص۵۸۰)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد