Brailvi Books

روزے کے اہم مسائل
32 - 33
کی حاجت نہیں اوراگر کُل فوت ہواتولگاتارکُل کی قضاکرناہو گی۔(1) 
	صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  اعتکاف توڑنے کی صورت میں اسکی قضا کا حکم بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:اعتکافِ نفل اگر چھوڑ دے تو اس کی قضا نہیں ،کہ وہیں تک ختم ہوگیا اور اعتکافِ مسنون کہ رمضان کی پچھلی دس تاریخوں تک کے لیے بیٹھا تھا، اسے توڑا تو جس دن توڑا فقط اس ایک دن کی قضا کرے، پورے دس دنوں کی قضا واجب نہیں اورمنّت کا اعتکاف توڑا تو اگر کسی معیّن مہینے کی منت تھی تو باقی دنوں کی قضاکرے، ورنہ اگرعلی الاتّصال واجب ہوا تھا تو سِرے سے اعتکاف کرے اور علی الاتصال واجب نہ تھا تو باقی کا اعتکاف کرے۔ 
اعتکاف کی قضاصرف قصداً توڑنے سے نہیں بلکہ اگرعذرکی وجہ سے چھوڑا مثلاً بیمارہوگیایابلااختیارچھوٹامثلاً عورت کوحیض یانفاس آیایاجنون وبے ہوشی طویل طاری ہوئی،ان میں بھی قضاواجب ہے۔(2)
وَاللہُ اَعْلَم عَزَّ  وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ ٗ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ
ابومحمد علی اصغر العطاری المدنی
11رمضان المبارک 1434ھ21جولائی 2013ء
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
… ردّ المحتار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، ۳/۵۰۳-۵۰۴.
2… بہارِ شریعت،حصہ پنجم، اعتکاف کا بیان،۱/۱۰۲۸-۱۰۲۹.