Brailvi Books

روزے کے اہم مسائل
31 - 33
	عورت کامانعِ حیض گولیوں کا استعمال چاہے اعتکاف میں بیٹھنے کے لیے ہویا کسی اوروجہ سے دونوں صورتوں میں شرعی اعتبار سے جائز ہے ۔البتہ طبّی اعتبار سے اگر ان کے استعمال سے عورت کو نقصان ہوتا ہو تو پھر اس سے اجتناب کرنا ہوگا۔اوردورانِ اعتکاف حیض آنے سے اعتکاف ٹوٹ جائے گاجس کی بعد میں قضاواجب ہے۔
واضح رہے کہ گولیوں کی وجہ سے حیض نہ آئے توحائضہ شمار نہ ہوگی حکمِ طہارت باقی رہے گا ،روزہ رکھ سکتی ہے اور اعتکاف بھی کرسکتی ہے۔
طحطاوی علی الدرمیں درِّ مختارکے اس قول”فیقضیہ“کے تحت ہے: ’’سواء فسد بصنعہ بغیر عذر کالخروج والجماع، والاکل والشرب فی النہار او فسد بصنعہ لعذر کما اذا مرض فاحتاج الی الخروج فخرج او بغیر  صنعہ رأساً کالحیض والجنون والاغماء الطویل بحر‘‘یعنی اعتکاف کافاسدہونا برابرہےکہ قصداًبغیرعذر کے ہوجیسے مسجد سے باہرنکلنا،جماع کرنا،دن میں کھاناپینا۔یافاسدکرناقصداًہوعذرکی وجہ سے جیسے بیمارہوا اور مسجدسے نکلنے کی طرف محتاج ہے تووہ مسجدسے نکلا۔یافاسد کرنااصلاًاس کے قصدسے نہ ہوجیسے حیض آجانا ،جنون،اورطویل بے ہوشی طاری ہوجانا۔بحر۔ (1)	
فتاویٰ شامی میں ہے:” وامّا حکمہ اذا فات عن وقتہ المعیّن، فان فات بعضہ قضاہ لا غیر ولا یجب الاستقبال، او کلّہ قضی الکلّ متتابعاً“ یعنی اس کا حکم(یعنی اعتکاف کو فاسدکرنے یاہوجانے کا حکم ) یہ ہے کہ اگریہ وقتِ معین میں فوت ہوجائے تو اگربعض فوت ہواتوصرف بعض کی قضا کرناہوگی اور دوبارہ نئے سرے سے اعتکاف 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
… حاشیۃ الطحطاوی علی الدر، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، ۱/۴۷۵.