بہن گھر میں جس جگہ اعتکاف کر رہی ہو تو کیا اس جگہ سے باہر گھر کے کسی دوسرے حصے میں کسی کام سے جا سکتی ہے یا نہیں ؟ سائلہ:سدرہ شاہین عطاریہ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
اَلْجَوَاب بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَا لصَّوَاب
اسلامی بہن اعتکاف کیلئے مخصوص کی گئی جگہ سے حاجتِ شرعی وطبعی کے علاوہ نہیں نکل سکتی، اگر نکلے گی اگرچہ گھر ہی کے کسی دوسرے حصے کی طرف تو اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔خیال رہے کہ جس طرح مرد کا اعتکاف بلا عذرِ شرعی مسجد سے نکلنے سے ٹوٹ جاتا ہے اسی طرح عورت بھی اگر بلا عذرِ شرعی اس مسجدِ بیت (گھر میں نماز پڑ ھنے کیلئے مخصوص کی گئی جگہ جہاں اعتکاف کیا جا تا ہے )سے نکلے گی تو اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔
درمختار و ردالمحتار میں ہے:”(وحرم علیہ الخروج)ای: من معتَکفہ ولو مسجد البیت فی حقّ المرأ ۃ فلو خرجت منہ ولو الی بیتھا بطل اعتکافھا لو واجباً(الّا لحاجۃ الانسان) “یعنی معتکف کاحاجتِ انسانیہ کے علاوہ اپنی اعتکاف کی جگہ سے نکلنا حرام ہے اگر چہ وہ عورت کیلئے مسجدِ بیت ہو،اگر عورت اپنی مسجدِ بیت سے نکلے گی اگر چہ گھر کے دوسرے حصوں ہی کی طرف تو اس کااعتکاف باطل ہو جا ئے گا جبکہ وہ اعتکاف واجب ہو۔‘‘ (1)
اسی طرح فتاوی عالمگیری میں ہے :’’اذا اعتکفت فی مسجد بیتھا فتلک البقعۃ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
… در مختار وردّ المحتار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، ۳/۵۰۰-۵۰۱، ملتقطاً.