صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی قُدِّسَ سِرُّہٗ تحریر فرماتے ہیں : معتکف کو مسجد سے نکلنے کے دوعذر ہیں:
ایک حاجتِ طبعی کہ مسجد میں پوری نہ ہو سکے جیسے پاخانہ، پیشاب، استنجا، وضو اور غسل کی ضرورت ہو تو غسل، مگر غسل و وضو میں یہ شرط ہے کہ مسجد میں نہ ہوسکیں یعنی کوئی ایسی چیز نہ ہو جس میں وضو و غسل کا پانی لے سکے اس طرح کہ مسجد میں پانی کی کوئی بوند نہ گرے کہ وضو و غسل کا پانی مسجد میں گرانا ناجائز ہے اور لگن وغیرہ موجود ہو کہ اس میں وضو اس طرح کر سکتا ہے کہ کوئی چھینٹ مسجدمیں نہ گرے تو وضو کے لیے مسجد سے نکلنا جائز نہیں، نکلے گا تو اعتکاف جاتا رہے گا۔یوہیں اگر مسجد میں وضو و غسل کے لیے جگہ بنی ہو یا حوض ہو تو باہر جانے کی اب اجازت نہیں۔
دوم حاجتِ شرعی مثلاً عید یا جمعہ کے لیے جانا یا اذان کہنے کے لیے منارہ پر جانا، جبکہ منارہ پر جانے کے لیے باہر ہی سے راستہ ہو اور اگر منارہ کا راستہ اندر سے ہو تو غَیرِ مؤذن بھی منارہ پر جا سکتا ہے مؤذن کی تخصیص نہیں۔ (1)
وَاللہُ اَعْلَم عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ ٗ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ
عبدہ المذنب محمد فضیل رضا العطاری عفی عنہ الباری
06شعبان المعظم 1437 ھ/14مئی 2016 ء
عورت کا گھر میں ہی مسجدِ بیت سے باہر کسی کام کیلئےجانا
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اسلامی
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
… بہارِ شریعت،حصہ پنجم، اعتکاف کا بیان،۱/۱۰۲۳-۱۰۲۴.