”فنائے مسجداس مُعامَلہ میں حکمِ مسجد میں ہے‘‘۔(1)
اعلیٰ حضرترَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:”جب وہ مدارس متعلّقِ مسجد، حدودِ مسجد کے اندرہیں اُن میں اور مسجد میں راستہ فاصل نہیں صرف ایک فصیل سے صحنوں کاامتیاز کردیاہے تو ان میں جانا مسجد سے باہر جاناہی نہیں یہاں تک کہ ایسی جگہ معتکف کوجاناجائز کہ وہ گویا مسجد ہی کا ایک قطعہ ہے۔وھذا ما قال الامام الطحاوی انّ حجرۃ امّ المؤمنین من المسجد، فی ردّ المحتار عن البدائع لو صعد ای: المعتکف المنارۃ لم یفسد بلاخلاف لانّھا منہ لانّہ یمنع فیھا من کلّ مایمنع فیہ من البول ونحوہ فاشبہ زاویۃ من زوایا المسجد۔ یعنی یہی بات امام طحاوی نے فرمائی کہ اُمُّ المؤمنینرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کا حجرہ مسجد کاحصہ ہے۔ ردالمحتارمیں بدائع سے ہے اگر معتکف منارہ پرچڑھا توبالاتفاق اس کا اعتکاف فاسد نہ ہوگا کیونکہ منارہ مسجد کاحصہ ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ اس میں ہر وہ عمل مثلاً بول وغیرہ منع ہے جومسجد میں منع ہے تویہ مسجد کے دیگر گوشوں کی طرح ایک گوشہ ٹھہرا۔‘‘ (2)
علامہ علاؤ الدّین حصکفیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ تحریرفرماتے ہیں :”( الخروج الّا لحاجة الانسان)طبيعيّة كبول وغائط وغسل لو احتلم ولا يمكنه الاغتسال في المسجد كذا في النهر۔“یعنی معتکف مسجد سے نہ نکلے مگر حاجت ِ طبعیہ کی وجہ سے جیسے پیشاب،پاخانہ اور احتلام ہوتو غسل کیلئے جبکہ اُسے مسجد میں غسل کرنا ممکن نہ ہو۔جیسا کہ نہر میں ہے ۔(3)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
… فتاوی امجدیہ،کتاب الصوم،۱/۳۹۹.
… فتاوی رضویہ،باب الوتر والنوافل،۷/۴۵۳.
… در مختار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، ۳/۵۰۱.