عورت کا غسل کیلئے مسجدِ بیت سے نکلنا کیسا؟
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا عورت دورانِاعتکاف شدید گرمی کے سبب جائے اعتکاف کے علاوہ باتھ روم میں غسل کرسکتی ہے؟
سائلہ: بنت ِ لیاقت (جمشید روڈ نمبر2، باب المدینہ کراچی (
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم
اَلْجَوَاب بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَا لصَّوَاب
مرد اصلِ مسجد (یعنی وہ جگہ جو نماز پڑھنے کے لئے خاص کرکے وقف ہوتی ہے) سے متصل وقف جگہ جو ضرویات و مصالحِ مسجد کے لئے وقف ہوتی ہے جسے فنائے مسجد کہا جاتا ہے اس میں بنے ہوئے غسل خانہ میں دورانِ اعتکاف بغیر ضرورت کے بھی غسل کرسکتا ہے فنائے مسجد میں جانے سے اس کا اعتکاف نہیں ٹوٹتا جبکہ عورت گھر میں متعیّن کردہ جگہ میں اعتکاف کرتی ہے،جو”مسجدِ بیت“کہلاتی ہےاور مسجدِ بیت میں فناکا کوئی تصور نہیں ہوتا اس لئےعورت مسجدِ بیت سے باہر بلا ضرورت نہیں نکل سکتی، صورتِ مسئولہ میں عورت اگرفرض غسل کے علاوہ کسی غسل مثلاً گرمی کی وجہ سے ٹھنڈک حاصل کرنے کیلئے نکلے گی تو اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔
صدرالشریعہ مفتی امجدعلی اعظمیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:’’فِنائے مسجد جو جگہ مسجدسے باہَراس سے مُلحَق ضروریاتِ مسجدکیلئے ہے، مَثَلًاجوتااتارنے کی جگہ اور غُسْل خانہ وغیرہ اِن میں جانے سے اِعتِکاف نہیں ٹوٹے گا۔“مزیدآگے فرماتے ہیں :