اس حدیث سے ثابت ہوتاہے کہ دورانِ اعتکاف غسل کے لئے مسجد سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں اس لئے حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَصرف سر مبارک نکالتے تھے لہٰذا اگر معتکف اپنا سر دھونے کے لئے مسجد سے باہر نکال دے تو اعتکاف نہیں ٹوٹے گا۔
المبسوط میں ہے:’’(ولا بأس بأن یخرج رأسہ من المسجد إلی بعض أھلہ لیغسلہ) لما روی أنّ النبیّ صلّی اللہ علیہ وسلم فی اعتکافہ کان یخرج رأسہ الی عائشۃ فکانت تغسلہ وترجلہ۔“(1)
اگر غسل خانہ فنائے مسجد میں ہے تو بغیرغسل واجب ہوئے گرمی وتروتازگی کے لئے مناسب طریقہ سے غسل کر سکتے ہیں۔صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :’’فنائے مسجد جو جگہ مسجد سے باہر اس سے ملحق ضروریاتِ مسجد کے لیے ہے مثلاًجوتا اتارنے کی جگہ اور غسل خانہ وغیرہ ان میں جانے سے اعتکاف نہیں ٹوٹے گا.....فنائے مسجد اس معاملہ میں حکمِ مسجدمیں ہے ۔“(2)
اگر غسل خانہ مسجد سے باہر ہے تو گرمی و تروتازگی کے لئے غسل کرنے جانے سے اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔
وَاللہُ اَعْلَم عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ ٗ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ
الجواب صحیح کتبـــــــــــــــــــــــــــہ
ابوالصالح محمد قاسم القادری المتخصص فی الفقہ الاسلامی
ابواحمد محمد انس رضاعطاری المدنی
21 شعبان المعظم1431ھ03اگست2010ء
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
… المبسوط، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، ۲/۱۴۱، الجزء الثالث.
2… فتاوی امجدیہ،کتاب الصوم، ۱/۳۹۹، ملتقطاً.