Brailvi Books

روزے کے اہم مسائل
24 - 33
اعتکاف کے اہم مسائل
معتکف کا گرمی کی وجہ سے غسل کرنا کیسا؟
	کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اعتکاف کے دوران بغیر شرعی حاجت کے محض گرمی اور نفاست کے لئے نہانا کیسا ہے؟	
		سائل:محمد شبر عطاری (باغبانپورہ، مرکز الاولیاء ،لاہور )
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ  حِیْم
اَلْجَوَاب بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب  اَللّٰھُمَّ  ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَا لصَّوَاب
	معتکف کو مسجد سے نکلنے کے دو عذر ہیں :ایک حاجتِ شرعی مثلاً جمعہ کے لئے جاناجبکہ اس مسجد میں جمعہ کا اہتمام نہ ہو۔دوسری حاجتِ طبعی جو مسجد میں پوری نہ ہو سکتی ہو جیسے پاخانہ، پیشاب، استنجا، وضو اور غسلِ جنابت ۔اگر فنائے مسجد میں وضو و غسل کے لئے جگہ بنی ہو تو باہر جانے کی اب اجازت نہیں ۔
	بخاری شریف کی حدیثِ پاک ہے:” عن عائشۃ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہا  قالت: کان النبی صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یباشرنی وأنا حائض وکان یخرج رأسہ من المسجد وہو معتکف فأغسلہ وأنا حائض“یعنی حضرت عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا سے مروی ہے کہ وہ فرماتی ہیں سرکارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَمجھ سے جسم مس کرتے تھےحالانکہ میں حائضہ ہوتی  اور اپنا سر مبارک بحالتِ اعتکاف میری طرف نکال دیتے تومیں آپ کے سر کو دھو دیتی تھی حالانکہ میں حائضہ ہوتی۔ (1) 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
… بخاری، کتاب الاعتکاف، باب غسل المعتکف، ۱/۶۶۵، حدیث: ۲۰۳۰-۲۰۳۱.