Brailvi Books

روزے کے اہم مسائل
23 - 33
	ایسے مریض کیلئے فدیہ مستحب ہونے کی صورت بیان کرتے ہوئے امامِ اہلسنّت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:” اگر واقعی کسی ایسے مرض میں مبتلاہے جسے روزہ سے ضرر پہنچتا ہے تو تاحصولِ صحت اُسے روزہ قضا کرنے کی اجازت ہے اُس کے بدلے اگر مسکین کو کھا ناد ے تو مستحب ہے ثواب ہے جبکہ اُسے روزہ کا بدلہ نہ سمجھے اور سچے دل سے نیت رکھے کہ جب صحت پائے گا جتنے روزے قضا ہوئے ہیں ادا کرے گا۔“ (1) 
	لہٰذا صورتِ مستفسرہ میں مذکورہ شخص کیلئے روزہ رکھنا اگر باعثِ ضررنہیں اگرچہ صحت مند کے مقابلے میں تھوڑی مشقت زیادہ ہوتی ہو، توایسی صورت میں رمضان کے روزےرکھنا فرض اور چھوڑ دینے کی صورت میں شدید گناہ اور ان کی قضاء کرنا لازم ہو گا ۔اور اگر روزہ باعثِ ضرر ہے تو فی الحال روزے ترک کر کے بیماری چلے جانے کی صورت میں ان روزوں کو قضا ء کرنا لازم ہو گا ان کے بدلے میں فدیہ دینے سے فدیہ ادا نہ ہو گا ۔
وَاللہُ اَعْلَم عَزَّ  وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ ٗ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ
الجواب صحیح                                                                                                                                          کتبـــــــــہ
عبدہ المذنب فضیل رضاالعطاری عفی عنہ الباری                            	                       محمدسجاد العطاری المدنی
16شعبان المعظم1431ھ29جولائی2010ء
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
… فتاوی رضویہ، باب الفدیۃ، ۱۰/۵۲۱.