Brailvi Books

روزے کے اہم مسائل
22 - 33
	چنانچہ سیدی اعلیٰ حضرت مجدّدِ دین وملت فتاوی رضویہ شریف میں فرماتے ہیں:  ’’بعض جاہلوں نے یہ خیال کر لیا ہے کہ روزہ کا فدیہ ہر شخص کیلئے جائز ہے جبکہ روزے میں اسے کچھ تکلیف ہو ،ایسا ہر گز نہیں ،فدیہ صرف شیخِ فانی کیلئے رکھا ہے جو بہ سبب پیرانہ سالی حقیقۃً روزہ کی قدرت نہ رکھتا ہو ،نہ آئندہ طاقت کی امید کہ عمرجتنی بڑھے گی ضعف بڑھے گا اُس کیلئے فدیہ کا حکم ہے اور جو شخص روزہ خود رکھ سکتا ہو اور ایسا مریض نہیں جس کے مرض کو روزہ مضر ہو ،اس پر خود روزہ رکھنا فرض ہے اگرچہ تکلیف ہو ،بھوک پیاس گرمی خشکی کی تکلیف تو گویا لازمِ روزہ ہے اور اسی حکمت کیلئے روزہ کا حکم فرمایا گیا ہے ،اس کے ڈر سے اگر روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہو تو مَعَاذَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  روزے کا حکم ہی بیکار و معطل ہو جائے ۔“(1)
	ایک اور جگہ فرماتے ہیں:”جس جوان یا بوڑھے کو کسی بیماری کے سبب ایسا ضعف ہو کہ روزہ نہیں رکھ سکتے انہیں بھی کفارہ دینے کی اجازت نہیں بلکہ بیماری جانے کا انتظار کریں،اگر قبلِ شفا موت آجائے تو اس وقت کفارہ کی وصیت کر دیں،غرض یہ ہے کہ کفارہ اس وقت ہے کہ روزہ نہ گرمی میں رکھ سکیں نہ جاڑے میں،نہ لگاتار نہ متفرق اور جس عذر کے سبب طاقت نہ ہو اس عذر کے جانے کی امید نہ ہو،جیسے وہ بوڑھا کہ بڑھاپے نے اُسے ایسا ضعیف کردیا کہ روزے متفرق کر کے جاڑے میں بھی نہیں رکھ سکتا تو بڑھاپا تو جانے کی چیز نہیں ایسے شخص کو کفارہ کا حکم ہے ‘‘ (2) 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
… فتاوی رضویہ، باب الفدیۃ، ۱۰/۵۲۱.
2… فتاوی رضویہ، باب الفدیۃ، ۱۰/۵۴۷، ملتقطاً