Brailvi Books

روزے کے اہم مسائل
21 - 33
 میں روزہ رکھنے کی طاقت ہو ۔
چنانچہ نقایہ میں ہے:”وشیخ فان عجز عن الصوم افطر“یعنی بوڑھا شخص جو کہ روزہ رکھنے سے عاجز ہو وہ روزہ نہیں رکھے گا ۔
شرح نقایہ میں ہے:”(شیخ فانٍ) سُمّی بہ لقربہ الی الفناء او لانّہ فنیتْ قوّتہ“یعنی  شیخِ فانی کو فانی اس لئے کہتے ہیں کہ وہ فناء کے بہت قریب ہو تا ہے یا اس لئے کہ اس کی قوت ختم ہو چکی ہوتی ہے۔(1) 
کسی بیماری میں مبتلا ہونا بھی روزے چھوڑنے کا عذر نہیں بہت سے شوگر و گردے کے مرض والے بھی روزہ رکھتے ہیں ،ہاں البتہ مرض اتنا شدید ہے کہ روزہ رکھنا اس کیلئے ضرر کا باعث ہے توتاحصولِ صحت اسے روزہ قضا کرنے کی اجازت ہے اور اس کے بدلے اگر مسکین کو کھانا دے تو مستحب ہےتاہم یہ کھانا اس کے روزے کا بدلہ نہیں ہوگا بلکہ صحت پر ان روزوں کی قضا لازم ہے ۔ ہاں البتہ اگر اسی مرض ہی کی حالت میں بڑھاپے کی عمر میں پہنچ گیا اوراس بڑھاپے کی وجہ سے فی الحال یا آئندہ روزہ رکھنے کی استطاعت نہ رہے تو ایسا شخص شیخِ فانی ہے ،اب اس صورت میں قضا شدہ روزوں کا فدیہ ادا کرے اور ہر ایک روزہ کا فدیہ صدقۂ فطر کی مقدار کے برابر ہے اور ایک صدقۂ فطر کی مقدار تقریباً 1920 گرام (یعنی دو کلو میں اَسّی گرام کم) گندم، آٹا یااس کی رقم ہے ۔ اور اگر شیخِ فانی کی تعریف میں داخل نہ ہوا تو ورثاء کو قضاء شدہ روزوں کے بدلے میں فدیہ ادا کرنے کی وصیت کرے ۔

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
… فتح باب العنایة بشرح النقایة، کتاب الصوم، فصل فيما یفسد الصوم وفيما لا یفسدہ، ۱/۵۸۲.