Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
450 - 627
حدیث نمبر:48	    رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی وصیت
	عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ أَنَّ رَجُلًا  قَالَ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: أَوْصِنِیْ  قَالَ:’’ لَا تَغْضَبْ‘‘ فَرَدَّدَ مِرَارًا، قَالَ:’’ لَا تَغْضَبْ‘‘۔رَوَاہُ الْبُخَارِی
(بخاری، کتاب الادب، باب الحذر من الغضب، ۴/۱۳۱،حدیث:۶۱۱۶)
	ترجمہ:حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ ایک شخص نے نَبِیِّ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں عرض کی :’’مجھے وصیت فرمائیے! ‘‘ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :’’غصہ مت کرو۔‘‘ اس نے کئی بار یہی سوال دُہرایا آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہر بار یہی فرمایا کہ’’ غصہ مت کیا کرو۔‘‘
 غصہ نہ کرنے سے کیا مراد ہے؟
 	عَلَّامَہ اِبْنِ حَجَرعَسْقَلَانِیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی  فرماتے ہیں :’’ علامہ خطابی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الھَادِیْ نے فرمایا : ’’لَاتَغْضَبْ‘‘ کے معنی ہیں کہ غصے کے اسباب سے بچ اور غصے کی وجہ سے جو کیفیت ہوتی ہے اسے اپنے اوپر عارض مت کر ، یہاں پر نفسِ غُصّہ سے منع نہیں کیاگیا کیونکہ وہ تو طبعی چیز ہے جو کہ انسان کی فطرت میں موجود ہوتا ہے۔ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ’’ جو شخص بارگاہ رسالت میں نصیحت کا طالب ہوا تھا شاید ان کا مزاج بہت تیز اورطبیعت میں غصہ زیادہ تھا اورمُبَلِّغِ اعظم، نَبِیِّ مُکَرََّمْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی یہ عادتِ مبارکہ تھی کہ ہر ایک کو اس کی طبیعت کے مطابق حکم ارشاد فرماتے اسی لئے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں غصہ ترک کرنے کی وصیت فرمائی۔‘‘حضرت اِبْنِ تِیْن عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمَتِیْن فرماتے ہیں کہ حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے اس جملے ’’لَاتَغْضَبْ‘‘ میں دنیا و آخرت کی بھلائی جمع فرمادی کیونکہ غُصّہ اِنسان کو قطعِ تعلق کی طرف لے جاتا اور نرمی سے روکتا ہے اور بسا اوقات یہ انسان کو مَغْضُوْب عَلَیْہ (جس پر غُصّہ آیا ہے اس) کی ایذار سانی پر اُبھارتا ہے اور اس سے دین میں کمی آتی ہے۔ (ملخصاً فتح الباری، کتاب الادب، باب الحذر من الغضب، ۱۱/۴۳۹، تحت الحدیث:۶۱۱۶)