Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
448 - 627
 غصہ دلانے والے امور کا علاج
	حُجَّۃُ الْاِسْلَام حضرتِ سَیِّدُناامام غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِیغصہ اور اسکے اسباب کا علاج تجویز کرتے ہوئے فرماتے ہیں :’’تکبر کو تواضع واِنکساری کے ذریعے اور خود پسندی کو اپنی حقیقت کی پہچان کے ذریعے دور کیا جائے۔ فخر کو دور کرنے کے لئے اپنا یہ ذہن بنائے کہ میں بھی اپنے غلاموں (نوکروں ) کی طرح ایک بندہ ہوں کیونکہ تمام لوگوں کا نَسَب ایک ہے اور سب ایک باپ حضرتِ سَیِّدُناآدم عَلَیْہِ السَّلَام کی ا ولاد ہیں البتہ فضیلت میں کچھ تَفَاوُت (فرق) ہے (جس کا معیار تقویٰ و پرہیز گاری ہے ) تکبر خود پسندی اور فخر نِہایت گھٹیا عادات ہیں بلکہ تمام برائیوں کی جڑ ہیں جب تک ان سے خالی نہ ہو ا جائے اس وقت تک دوسروں پر فضیلت حاصل نہیں ہو سکتی۔تو جب ہمارا نَسَب بھی ایک ہے اور ظاہری وباطنی اعضاء بھی ایک جیسے ہیں تو ہم کسی پر فخر کیوں کریں۔ طنزومزاح سے اس طرح بچاجاسکتا ہے کہ آدمی اپنے ایسے اہم دینی اُمورمیں مشغول ہوجائے جوتمام زندگی کوگھیرلیتے ہیں لیکن پھر بھی بچ جاتے ہیں اوریہ اسی وقت ہوگا جب اُن اُمورکی معرفت حاصل ہو گی ۔لغو باتوں کو فضائل اور اخلاقِ حسنہ کی طلب میں سنجیدگی اختیار کرنے کے ذریعے دور کیاجا سکتا ہے۔اس طرح لغو باتوں کاایک علاج عُلومِ دِینیہ میں مشغولیت بھی ہے جو کہ اُخروی سعادت تک پہنچنے کا  بہترین ذریعہ ہے ۔
	دوسروں کامذاق اڑانیسے بچنے کاطریقہ یہ ہے کہ اپنے آپ کولوگوں کی ایذارسانی(تکلیف پہنچانا) اورانکے تَمَسْخُر (مذاق اُڑانے) سے بچانے کی فکر کی جائے۔ دوسروں کو شرمندہ کرنے کی عادت کو یوں چھوڑا جا سکتا ہے کہ بُری بات اور کڑواجواب دینے سے بچا جائے ، مال وجاہ (دولت و مرتبہ)کی کثرت کی حرص کویوں دور کیاجاسکتا ہے کہ ضرورت کے مطابق مال پر قناعت اور بے نیازی کی عزت کی طلب کی جائے اور حاجت کی ذلت سے بچا جائے۔ ان تمام عادات واوصاف کے علاج کے لئے رِیاضت اور مَشَقَّت برداشت کرنے کی اَشَدّ ضرورت ہے اور ان میں رِیاضت سے پہلے ان کی خرابیوں سے آگاہ ہونابھی ضروری ہے تاکہ نفس ان سے اِعراض کرے (منہ پھیرے)