تو تیری گالی مجھے کوئی نقصان نہ دے گی ۔‘‘چونکہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی پوری توجہ آخرت کی طرف تھی اسی لئے آپ کا دل گالی سے متاثر نہیں ہوا۔ (احیاء العلوم، ۳/۲۱۲)
(2) دشوار گزار گھاٹی
حضرتِ سَیِّدُنا رَبِیْع بِنْ خَیْثَمْ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو کسی نے گالی دی تو آپ نے فرمایا:’’اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تیری بات سن لی ہے اور جنت کے راستے میں ایک دشوار گزار گھاٹی ہے اگر میں اسے پا ر کر گیا توتیری یہ گالی مجھے کوئی نقصان نہ دے گی ا ور اگر میں اسے پار نہ کر سکا تو جو کچھ تو کہہ رہا ہے میں اس سے بھی برا ہوں۔‘‘(احیاء العلوم، ۳/۲۱۲)
(3) سخت کلامی پر صبر
ایک دفعہ ایک شخص نے حضرتِ سَیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ العَزِیْزسے بہت سخت کلامی کی تو آپ نے کافی دیر تک اپنا سرِمبارک جھکائے رکھا پھر اس سے فرمایا :’’ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ میں شیطان کے ہاتھوں کمزور ہوکر سلطانی غلبہ کے سبب تمہارے ساتھ ایسا سلوک کرو ں جس کا کل تم مجھ سے بدلہ لو ؟‘‘(احیاء العلوم، ۳/۲۰۵)
غصہ دِلانے کے اسباب
حضرتِ سَیِّدُنا یحییٰ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے حضرتِ سَیِّدُنا عیسیٰ رُوْحُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے پوچھا:’’کونسی چیز زیادہ سخت ہے؟‘‘ فرمایا:’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا غضب۔ ‘‘پوچھا :’’کون سا کام غضب ِ الٰہی کے قریب کرتا ہے ؟‘‘ فرمایا:’’ غصہ کرنا۔‘‘پوچھا:غصہ کس وجہ سے پیدا ہوتاہے؟‘‘فرمایا:’’ تکبر ، فخر، خودساختہ عزت وجھوٹی حَمِیَّت(غیرت) سے۔‘‘ (احیاء العلوم، ۳/۲۱۲)
خود پسندی ، مِزاح، غیر سنجیدگی، دوسروں کوشرمندہ کرنا، بات کاٹنا، مخالفت کرنا، دھوکا دینا،زائد مال اورجاہ ومرتبے کی شدید حِرْص، یہ تمام اُمور غصہ دلانے کے اسباب ہیں ، لہٰذا اِن اَسباب کے مخالف اُمور کے ذریعے ان کو زائل کرنا ضروری ہے ۔ (احیاء العلوم، ۳/۲۱۲)