Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
446 - 627
	چنانچہ، فرمان باری تعالیٰ ہے :
وَالْکَاظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ (پ۴،اٰل عمران:۱۳۴)
ترجمۂ کنز الایمان:اور غُصّہ پینے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے۔ 
  	جوشخص اپنے نفس کو خواہشات سے روکے توجنت اس کا ٹھکانااور حورِ عین اس کا انعام ہے۔ ’’اسے لوگوں کے سامنے بلایا جائے گا‘‘اس سے مراد یہ ہے کہ سب مخلوق کے سامنے بلا کر اس پر فخر کیا جائے گا اور اس کے بارے میں کہا جائے گا کہ یہ وہ شخص ہے جس نے یہ عظیم کام کیا ہے(یعنی اپنے غصے پر قابو پایا ) ۔ (شرح الطیبی، کتاب الاداب، باب الرفق والحیاء وحسن الخلق، ۹/۲۸۲، تحت الحدیث:۵۰۸۸)
	حضرتِ سَیِّدُناعلامہمُلَّا عَلِی قَارِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں کہ ’’باوجود قدرت غصہ نہ نکانے والے کی بروز قیامت  لوگوں کے سامنے تشہیر و تعریف کی جائے گی اور اس پر فخر کیا جائیگا ، پھر اس شخص کو اختیار دیا جائے گا   کہ جنتی حوروں میں سے جس حور کو چاہے لے لے یہ اس کے جنت میں داخل ہونے اور بلند درجہ پانے کی طرف اشارہ ہے ۔‘‘           (ملتقتا،مرقاۃ المفاتیح، کتاب الاداب، باب الرفق والحیاء وحسن الخلق، ۸/۸۱۶، تحت الحدیث:۵۰۸۸)
نیک لوگ غصے سے کس طرح بچتے تھے؟  
	ہمارے بزرگانِ دین رَحِمَھُمُ اللہُ الْمُبِیْن فکرِ آخرت جیسے اہم کام میں مشغولیت کی وجہ سے اپنے دل میں غصے کے نفاذ کی کوئی گنجائش نہیں پاتے تھے کیونکہ اہم باتوں میں دل کی مشغولیت دوسرے کاموں کا احساس نہیں ہونے دیتی۔ اسی مناسبت سے بزرگان دین کے واقعات ملاحظہ فرمائیے !
 (1) گالی مجھے نقصان نہ دے گی 
	 ایک شخص نے صحابیِ رسول حضرتِ سَیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو گالی دی تو آپ نے فرمایا :’’ اگر میزان میں میرے اعمال کا وزن کم ہوا تو جو کچھ تو کہتا ہے میں اس سے بھی بُرا ہوں اور اگر میرے اعمال کاپلڑا بھاری ہوا