حدیث نمبر: 47 غصہ پینے کا انعام
عَنْ مُعَاذِ بْنِ اَنَسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:’’ مَنْ کَظَمَ غَیْظًا، وَہُوَ قَادِرٌ عَلٰی أَنْ یُنْفِذَہُ، دَعَاہُ اللہُ سُبْحَانَہُ وَ تَعَالٰی عَلٰی رُئُ وْسِ الْخَلَائِقِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ حَتَّی یُخَیِّرَہُ مِنَ الْحُوْرِ الْعِیْنِ مَا شَائَ‘‘۔ رَوَاہُ اَبُوْدَاؤُدَ وَالتِّرْمِذِی وَقَالَ حَدِیْثٌ حَسَنٌ
(ابو داؤد ، کتاب الادب، باب من کظم غیظا، ۴/۳۲۵، حدیث:۴۷۷۷)
ترجمہ:حضرتِ سَیِّدُنا معاذ بن انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن، اَنِیْسُ الْغَرِیْبِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا جو شخص غصہ نافذکرنے پر قادر ہونے کے باوجود اسے پی جائے ، قیامت کے دن اللہ عَزَّوَجَلَّ تمام مخلوق کے سامنے بُلا کر اسے اختیار دے گا کہ بڑی آنکھوں والی جس حور کو چاہے پسند کرے۔
حدیثِ مذکور میں غُصّے کی حالت میں صبر کرنے کی تَلْقِیْن کی گئی ہے، کیونکہ اس حالت میں صبر کرنا بہت مشکل ہوتا ہے خاص طورپر اس وقت کہ جب انسان مَغْضُوْب عَلَیْہ (یعنی جس پر غُصّہ آیا ہے اُس ) پر غصہ نافذکرنے کی قدرت رکھتا ہو ، ایسی صورت میں اگر کوئی شخص صبراور عفوو درگزر سے کام لے تو اس کے لئے زبر دست اِنعام ہے کہ بروزِ قیامت سب لوگوں کے سامنے بلا کراسے اختیار دیا جائے گا کہ جس جنتی حور کو چاہے اختیار کر لے ۔
غُصّہ پینے والے پر فخر کیا جائیگا
اِمَام شَرَف الدِّیْنحُسَیْن بِنْ مُحَمَّد بِنْ عَبْدُاللہ طِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں :غصہ پی جانے سے مراد یہ ہے کہ جو غصے کا سبب بنا اسے معاف کرتے ہوئے صبر سے کام لینا ۔ غُصّہ پی جانا نفسِ امّارہ کو مغلوب کرنا ہے اسی لئے حدیث پاک میں غصہ پی جانے والے کی تعریف کی گئی ہے۔ قراٰن کریم میں بھی غُصّہ پی جانے والوں کی تعریف بیان کی گئی ہے ۔