سے دوری کی آفت میں مبتلا کر دیتا ہے ۔پس اللہ عَزَّوَجَلَّ کی پناہ مانگنا شیطان کے مکرو فریب سے بچنے کا بہترین ہتھیار ہے۔ حضرتِ سَیِّدُنا ابو ذر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو اگر وہ کھڑا ہو تو بیٹھ جائے اگر اس سے اس کا غصہ دور ہو جائے تو ٹھیک ورنہ لیٹ جائے۔
(ابو داؤد، کتاب الادب، باب مایقال عند الغضب، ۴/۳۲۷، حدیث: ۴۷۸۲)
حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :’’ غصہ شیطان کی طرف سے ہے اور شیطان آگ سے پیدا ہوا ہے اور آگ پانی سے بجھتی ہے لہٰذا جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو وہ وضو کر لیا کرے ۔ ‘‘ (ابو داؤد، کتاب الادب، باب ما یقال عند الغضب، ۴/۳۲۷، حدیث:۴۷۸۴)(ابنِ بطال کتاب الادب،باب الحذر من الغضب،۹/۲۹۶)
غصے کی مَذَمَّت پر3روایات
(1)جہنمی دروازہ
تاجدار رسالت ، محبوب رَبُّ الْعِزَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ’’بے شک! جہنم میں ایک ایسا دروازہ ہے جس سے وہی داخل ہوگا جس کا غصہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی پر ہی ٹھنڈا ہوتاہے۔‘‘
(کنزالعمال،کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، ۲/ ۲۰۸، حدیث:۷۶۹۶،الجزء الثالث )
(2)غصہ کب نقصان دہ ہے؟
سرکاردوعالَم، نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’عنقریب میں تمہیں لوگوں کے معاملات اور ا ن کی عادتوں کے بارے میں بتاؤں گا۔ ایک شخص کو غصہ جلدی آتاہے اور جلد ہی ختم ہو جاتا ہے یہ نہ تو کسی کو نقصان پہنچاتا ہے نہ کسی سے نقصان اٹھاتا ہے۔اور ایک شخص کو دیر سے غصہ آتا ہے مگر جلد رفع ہو جاتا ہے تو یہ اس کے لئے بہتر ہے نقصان دہ نہیں۔ ایک شخص اپنے حق کا تقاضا کرتا ہے اور غیر کا حق بھی ادا کر دیتا ہے، اس کا یہ عمل نہ اسے نقصان دیتا ہے نہ کسی دوسرے کو اور ایک شخص اپنا حق تو طلب کرتاہے لیکن دوسرے کا حق ادا نہیں کرتا تو یہ اس کے لئے مُضِر( نقصان