(9)خیر وبرکت کیا ہے؟
اَمیرُالْمُؤمِنِیْنحضرتِ سَیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : بھلائی یہ نہیں کہ تمہارا مال و اولاد زیادہ ہو بلکہ بھلائی تو یہ ہے کہ تمہار اعِلْم وحِلْم زیادہ ہو۔ اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کے ساتھ لوگوں کے سامنے فخر نہ کرو،جب نیکی کرو تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شکرادا کرواور جب گناہ سرزَد ہوجائے تواللہ عَزَّوَجَلَّ سے بخشش طلب کرو۔
(احیاء العلوم ، ۳/۲۲۰)
(10) دوسروں پر ظلم کرنے والا ذلیل ہے
ایک شخص نے حضرتِ سَیِّدُنا امام جعفر بن محمد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے عرض کی: کچھ لوگوں سے میرا جھگڑا ہوا ہے میں اس معاملے کو چھوڑنا چاہتا ہوں لیکن مجھے لوگوں کی طرف سے ذلت کے طعنے کا خوف ہے ۔ حضرتِ سَیِّدُنا جعفررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا:’’ ذلیل تو وہ ہے جو دوسروں پرزیادتی کرے ۔‘‘(احیاء العلوم ، ۳/۲۲۱)
(11)حُسنِ سُلوک برائی سے روکتا ہے
حضرتِ سَیِّدُنا خلیل بن احمد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الصَّمَد فرماتے ہیں : اگر برائی کرنے والے کے ساتھ حُسنِ سُلوک کیا جائے تو اُس کے دل میں ایسی بات پیدا ہوجاتی ہے جو اُسے برائی سے روکتی ہے ۔ (احیاء العلوم ،۳ /۲۲۱ )
(12)اپنی ذات کے لئے بدلہ نہ لینا
اَمیرُالْمُؤمِنِیْنحضرتِ سَیِّدُنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے نشہ کرنے والے ایک شخص کو سزادینے کا ارادہ فرمایا: تو وہ آپ کی برائی کرنے لگا ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اسے چھوڑ دیا۔ لوگوں نے عرض کی: اے اَمیرُ الْمُؤمِنِیْن !جب اس نے آپ کو گالی دی تو آپ نے اسے کیوں چھوڑ دیا ؟ فرمایا : اس لئے کہ ا س نے مجھے غصہ دِلایا تھا اب اگر میں اسے سزا دیتا تو یہ میری اپنی ذات کے لئے غصہ ہوتا اور میں نہیں چاہتا کہ کسی مسلمان کو اپنی ذاتی غیرت کی وجہ سے کوئی سزا دوں۔ (احیاء العلوم ،۳/۲۲۳)