Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
439 - 627
سے کم عمل کرے گا تو میں اس سے بہتر ہوں۔‘‘ (احیاء العلوم ،۳/۲۲۰)
(6) آدمی مشورہ دینے کے قابل کب ہوتا ہے ؟
	حضرتِ سَیِّدُنا امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں :’’آدمی اس وقت تک رائے (مشورہ ) دینے کے قابل نہیں ہوتا جب تک اُس کا حِلْم (بُردباری) اسکی جہالت پر اور اس کا صبر اس کی خواہش پر غالب نہ آجائے اورا س مقام تک علم کے بغیر پہنچنا ممکن نہیں۔‘‘ (احیاء العلوم ، ۳/۲۲۰)
                          (7) بُرد باری کا پہلا صِلہ 
	اَمیرُ الْمُؤمِنِیْنحضرتِ سَیِّدُنا مولائے کائنات ، علیُّ الْمُرْتَضٰی شیرِ خُدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں :’’آدمی کو بردباری (غصہ برداشت کرنے) کا پہلا عوض یہ ملتا ہے کہ تمام لوگ اُس کے طرف دار ہوجاتے ہیں اور اس کے مخالف کی مذمت کرتے ہیں۔‘‘ (احیاء العلوم ، ۳/۲۲۰)
 (8) جنت میں جلدی جانے والے 
 	نبیِّ کریم، رء وف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :جب اللہ عَزَّوَجَلَّ قیامت کے دن لوگوں کو جمع  فرمائے گا تو ایک مُنَادِی (پکارنے والا)ندا دے گا:’’ فضیلت والے لوگ کہاں ہیں ؟ ‘‘توتھوڑے سے لوگ کھڑے ہونگے اور جلدی جلدی جنت کی طرف چل دیں گے۔ فرشتے پوچھیں گے:’’ہم تمہیں بہت تیزی کے ساتھ جنت کی طرف جاتا دیکھ رہے ہیں اس کی کیا وجہ ہے؟‘‘ وہ کہیں گیـ:’’ ہمیں دوسروں پر فضیلت حاصل ہے۔‘‘ فرشتے پوچھیں گے:’’ تمہاری فضیلت کونسی ہے؟‘‘ وہ جواب دیں گے کہ’’ جب ہم پر ظلم کیا جاتا تھا تو ہم صبر کرتے تھے۔ جب ہم سے بُرا سلوک کیا جاتا تو ہم معاف کر دیا کرتے تھے۔ جب ہم سے جہالت کا برتاؤ کیا جاتا تو ہم حوصلے اور بردباری سے کام لیتے تھے۔‘‘ اس وقت ان سے کہا جائے گا:’’ جنت میں داخل ہو جاؤ ! عمل کرنے والوں کا کتنا اچھا اجر ہے ۔‘‘
 (احیاء العلوم ،۳/۲۲۰)