Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
438 - 627
(2) گالی دینے والے کے ساتھ خیر خواہی
	حضرتِ سَیِّدُنا امام زین العابدین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو کسی نے گالی دی تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے اسے اپنا مبارک کُرتا اور ایک ہزار درھم دینے کا حکم دیا۔ تو کسی نے کہا: آپ نے پانچ خصلتیں جمع کر لی ہیں :
 (۱) بردباری(۲) تکلیف نہ دینا (۳) اس شخص کوایسی بات سے رہائی دینا جو اسے اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دور کردیتی (۴) اسے توبہ وندامت کی طرف راغب کرنا (۵) برائی کے بعد تعریف کی طرف رجوع کرنا۔ آپ نے معمولی دنیا کے ساتھ یہ تمام عظیم چیزیں خرید لیں۔ (احیاء العلوم ، ۳/۲۲۱)
(3) گالی دینے والا خود شرمندہ ہوگیا 
	 حضرتِ سَیِّدُنا عَبْدُ اللہ بِنْ عَبَّاس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو ایک شخص گالی دینے لگا جب وہ خاموش ہوا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حضرتِ سَیِّدُناعِکْرِمَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے فرمایا: اے عِکْرِمَہ! اس شخص کی کوئی حاجت ہو تو اسے پورا کر دو! جب اس شخص نے یہ سنا تو شرمندہ ہوکر سر جھکا لیا۔(احیاء العلوم ، ۳/۲۲۰) 
 (4)بغیر خریدے غلام بنا لیا
	 ایک بزرگ  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’میں نے بصرہ کے ایک شخص کی برائی کی : تو اس نے صبر وبردباری سے کام لیا گویا اس نے مجھے ایک عرصہ تک اپناغلام بنا لیا ۔‘‘ (احیاء العلوم ، ۳/۲۲۰)
(5) سردار بنانے والی خصوصیات 
	حضرتِ سَیِّدُنا امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حضرتِ سَیِّدُنا عَرَابَہ بِنْ اَوْس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے پوچھا :’’ اے عَرَابَہ! تم اپنی قوم کے سردار کیسے بنے ؟‘‘ عرض کی:’’ اے اَمیرُ الْمُؤمِنِیْن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ! میں اُن کے جاہلوں سے درگزر کرتا، انکے مانگنے والوں کو عطا کرتا اور ان کی حاجات پوری کر نے کی کوشش کرتا تھا۔ تو جو شخص میری طرح یہ کام کرے گا وہ مجھ جیسا ہو جائے گا اور جو اس سے بڑھ کر کرے گا وہ مجھ سے افضل ہو گا۔اور جو میرے عمل