انہیں پچھاڑدیتا ہو۔ (شرح بخاری لابن بطال، کتاب الادب، باب الحذر من الغضب، ۹/۲۹۶)
مسلم شریف کی روایت میں یوں ہے کہ نبیِّ کریم، رء وف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسے پوچھا : ’’تم کیا سمجھتے ہو کہ پہلوان کون ہے؟ ‘‘ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی: پہلوان وہ ہے جسے لوگ پچھاڑ نہ سکتے ہوں۔ فرمایا:’’نہیں اصل پہلوان وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے۔ ‘‘
شریعت کو مطلوب و محبوب کون؟
علامہ نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : تم یہ سمجھتے ہو کہ پہلوان وہ ہے جو بہت طاقتور ہو اوراُس کو کوئی پچھاڑ نہ سکے ؟ حالانکہ ایسا نہیں ہے بلکہ شریعت کو محبوب و مطلوب تووہ ہے جو غصے کی حالت میں اپنے آپ پر قابو رکھے۔‘‘ (شرح مسلم للنووی،کتاب البر والصلۃ، باب فضل من یملک تفسہ عند الغضب،۸/ ۱۶۲، الجزء السادس عشر ملخصاً)
غصہ برداشت کرنے سے متعلق 12روایات
(1)کیسے صابر تھے محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے گھرانے والے !
حضرتِ سَیِّدُنا امام جعفر صادق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے ایک غلام کے ہاتھ سے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے کپڑوں پر پانی گرگیا،تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اسے تیز نظر ں سے دیکھا ، غلام نے کہا:میرے آقا! وَالْکٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ (اور غصہ پینے والے)۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا:میں نے اپنا غصہ پی لیا۔غلام نے پھرکہا: وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ(اورلوگوں سے در گزر کرنے والے)۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا: میں نے تجھے معاف کیا۔ غلام نے کہا:وَاللہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۔(اور نیک لوگ اللہ کے محبوب ہیں )۔ (پ۴، الِ عمران:۱۳۴) آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا: جا!تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے آزاد ہے اور میرے مال میں سے ایک ہزار دیناربھی تیرے ہیں۔(بحر الدموع ، ص۲۰۲)
اللہعَزَّوَجَلَّکی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صَدْقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم