رکھنا بھی سعادت مندی کی دلیل ہے۔
(7) جب کسی کا بچہ فوت ہو جائے تو تعزیت کرتے وقت اس کے لئے اچھے نِعْمُ الْبَدَل کی دعا کرنی چاہئے۔
(8) جس مسلمان کا نام مُحَمَّد یا اَحْمَد ہو گا وہ جہنم میں نہیں جائے گا۔ اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ
یااللہعَزَّوَجَلَّ!اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نامِ نامی کے صَدقے ہماری بے حساب مغفرت فرما! اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
٭٭٭٭٭٭
حدیث نمبر: 45 بڑا پہلوان کون؟
عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:’’ لَیْسَ الشَّدِیْدُ بِالصُّرَعَۃِ،إِنَّمَاالشَّدِیْدُ الَّذِیْ یَمْلِکُ نَفْسَہُ عِنْدَ الْغَضَبِ۔‘‘مُتَّفَقٌ عَلَیْہ (بخاری ،کتاب الادب، باب الحذر من الغضب، ۴/۱۳۰،حدیث:۶۱۱۴)’’وَالصُّرَعَۃُ‘‘ بضَمِّ الصَّادِ وَفَتْحِ الرَّائِ، وَأَصْلُہُ عِنْدَ الْعَرَبِ مَنْ یَصْرَعُ النَّاسَ کَثِیْراً۔
ترجمہ:حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن،اَنِیْسُ الْغَرِیْبِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:’’پہلوان وہ نہیں جو لوگوں کو پچھاڑ دے بلکہ پہلوان تو وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے آپ پر قابو پالے۔‘‘ امام نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں ’’اَلصُّرَعَۃُ‘‘ اہلِ عرب کے ہاں اسے کہتے ہیں جو لوگوں کواکثر پچھاڑ دیتا ہو۔
نفس سے جہاد کرنا زیادہ مشکل ہے
حدیث پاک کا مفہوم یہ ہے کہ’’ جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے اور غصے کو اپنے آپ سے روکے اصل میں پہلوان وہی ہے۔‘‘ اس سے پتہ چلا کہ نفس سے جہاد کرنا دشمن سے جہاد کرنے سے زیادہ مشکل ہے۔ اسی لئے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے غصے پر قابو پانے والے کو اس سے بھی بڑا پہلوان کہا جو لوگوں پر غالب ہو کر