نہ جائے گا۔‘‘ (الفردوس بمأثور الخطاب للدیلمی، ۲ /۵۰۳، حدیث:۸۵۱۵)
آنکھوں کا تارا نامِ محمد دل کا اُجالا نام محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
دولت جو چاہو دونوں جہاں کی کر لو وظیفہ نام محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
روزِ قیامت میزان وپُل پر دے گا سہارا نام محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
پوچھے گامولالایاہے کیا کیا میں یہ کہوں گا نام محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
غم کی گھٹائیں چھائی ہیں سر پر کر دے اشارہ نام محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
رنج والَم میں ہے نام لیوا کر دے اشارہ نام محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مد نی گُلد ستہ
’’ قفلِ مد ینہ‘‘ کے8حروف کی نسبت سے حد یثِ
مذکور اور اسکی وضاحت سے ملنے والے8مدنی پھول
(1) اولاد کا فوت ہونا اگرچہ بہت بڑی مصیبت ہے مگر اس پر صبر کرنے کا اجر بھی بہت بڑا ہے ۔
(2) بچے کو گھٹی دینا سنتِ مبارکہ ہے گھٹی کسی نیک پرہیزگار مسلمان سے دلوانی چاہیے ۔
(3)بچوں کو بزرگوں کی بارگاہ میں لے جانا صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی سنت ہے۔
(4) کسی کو کوئی غم کی خبر سنانی ہو تو یکدَم نہیں سنانی چاہیے بلکہ ہو سکے توپہلے اس کی ذہن سازی کر لی جائے ۔
(5) ہو سکے تو تَبَرُّکاًکسی بزرگ ہستی سے نام رکھوایا جائے اور اگر خود رکھیں تو اچھا نام رکھنا چاہیے جیسے عَبْدُ اللہ ،عَبْدُ الرَّحْمٰن، مُحَمَّد ، اَحْمَد وغیرہ یا بزرگانِ دین کے نام پر نام رکھیں۔
(6) اولیائے کرام رَحِمَھُمُ اللہُ السَّلَام سے محبت دنیا وآخرت میں کامیابی کا سبب ہے یہاں تک کہ ان کے ناموں پر نام