برے نام کو بدل دیتے)۔(ترمذی، کتاب الادب، باب ماجاء فی تغییر الاسمائ، ۴/۳۸۲، حدیث:۲۸۴۸) بچوں کے نام انبیائے کرام عَلَیْھِمُ السَّلَامصحابہ و صحابیات کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان و تابعین و تابعات اور بزرگانِ دین رَحِمَھُمُ اللہُ الْمُبِیْنکے نام پررکھے جائیں۔ ہو سکے تو نام کسی متقی و پرہیز گار ،صحیح العقیدہ سنی عالِمِ دین سے رکھوایا جائے۔
اچھے نام رکھنے کی فضیلت پر 4فرامین مصطفیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
(1)اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پسندیدہ نام
’’تمہارے ناموں میں اللہعَزَّوَجَلَّ کے نزدیک زیادہ پیارے نام عَبْدُاﷲ و عَبْدُالرَّحْمٰن ہیں۔‘‘
(مسلم، کتاب الاداب، باب النھی عن التکنی بابی القاسم …الخ، ص۱۱۷۸، حدیث:۲۱۳۲)
(2)قیامت میں ناموں سے بلایا جائے گا
’’ قیامت کے دن تم کو تمہارے اور تمہارے باپوں کے نام سے بلایا جائے گا، لہٰذا اچھے نام رکھا کرو۔‘‘
( أبو داود ، کتاب الادب، باب فی تغییر الاسمائ، ۴/ ۳۷۴، حدیث:۴۹۴۸)
(3)نامِ محمد رکھنے کی فضیلت
’’جس کے ہاں لڑکا پیدا ہو اور وہ میری محبت اور میرے نام سے برکت حاصل کرنے کے لئے اس کا نام محمد رکھے تووہ اور اس کا لڑکا دونوں جنت میں جائیں گے۔‘‘
(کنزالعمال،کتاب النکاح، الباب السابع فی بر الاولاد وحقوقہم، ۸/۱۷۵، حدیث:۴۵۲۱۵، الجزء السادس عشر )
(4)جس کا نام محمد ہوگا اُسے عذاب نہ ہوگا
بروزِ قیامت دو شخص اللہ رَبُّ الْعِزَّت کے حضور کھڑے کئے جائیں گے، حکم ہو گا اِنہیں جنت میں لے جاؤ! وہ عرض کریں گے : اے ہمارے ربّ عَزَّوَجَلَّ !ہم کس عمل کی بدولت جنت کے قابل ہوئے، ہم نے توکوئی کام جنت کا نہیں کیا؟ اللہ عَزَّوَجَلَّ فرمائے گا :جنت میں جاؤ !میں نے قسم ارشاد فرمائی ہے کہ جس کا نام احمد یا محمد ہو وہ دوزخ میں