Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
433 - 627
’’علمائے کِرام رَحِمَھُمُ اللہُ السَّلَامکا اس بات پر اتفاق ہے کہ بچے کی ولادت کے وقت اسے کھجور کی گھٹی دینا مستحب ہے اگر کھجور میسر نہ ہو تو اس کے علاوہ کسی میٹھی چیز سے دی جائے ۔ گھٹی دینے والا کھجور کو چبائے یہاں تک کہ وہ نرم ہو جائے اور بچے کے نگلنے کے لائق ہو جائے تو پھر بچے کا منہ کھول کر اس کے منہ میں رکھ دی جائے۔ مستحب یہ ہے کہ گھٹی دینے والا نیک و متقی شخص ہو کہ جس سے لوگ فیض حاصل کرتے ہوں خواہ وہ نیک شخص آدمی ہو یا عورت ، اگر ولادت کے وقت وہاں کوئی نیک شخص موجود نہ ہو تو پھر بچے کو اس کے پاس لے جایا جائے۔ اس حدیث میں اُمِّ سُلَیْم کے عظیم صبر، تقدیر پر راضی رہنے اور عقل و دانشمندی جیسے اوصاف کا ذکر ہے کہ انہوں نے صبر اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا پرراضی ہونے کا اظہار کیااور اپنے شوہر سے بیٹے کی موت کی خبر اس کی موت کی پہلی رات بہت احسن انداز سے چھپائی اور انہیں اپنی خواہش پوری کرنے کا موقع فراہم کیا ۔  (شرح مسلم للنووی، کتاب الاداب ، باب استحباب تحنیک المولود  الخ،۷ /۱۲۲-۱۲۴، الجزء الرابع عشر )
 بچوں کے نام اچھے رکھنے چاہئیں !
	 بچوں کے اچھے نام رکھنے چاہئیں جیسا کہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرتِ سَیِّدُنا ابو طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کے بیٹے کا نام عَبْدُاللہ رکھا۔
 اللہ عَزَّوَجَلَّ قراٰن مجید فرقانِ حمید میں ارشاد فرماتا ہے :
وَلَا تَلْمِزُوْٓا اَنْفُسَکُمْ وَلَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ ط(پ ۲۶، الحجرٰت: ۱۱)
ترجمۂ کنز الایمان : اورآپس میں طعنہ نہ کرو اور ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو۔
 	آج کل لوگUnique( منفرد ، سب سے الگ) نام رکھنے کی دُھن میں اپنے بچوں کے ایسے ایسے نام رکھ دیتے ہیں جن کے معانی درست نہیں ہوتے، حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کسی کے نام میں کوئی خامی دیکھتے تو اسے تبدیل فرمادیتے تھے ۔ اُمُّ المؤمنین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صدّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے مروی ہے :’’اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کَانَ یُغَیِّرُ الْاِسْمَ الْقَبِیْحَ ‘‘ (نبیِّ اکرم، نورِ مجسم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عادتِ کریمہ تھی کہ