Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
432 - 627
 لئے کھجور سے گھٹی دینی چاہیے ۔ (شرح بخاری لابن بطال، کتاب العقیقۃ، باب تسمیۃ المولود غداۃ …الخ، ۵/۳۷۳)
	نوٹ: عقیقے کے بارے میں مزید معلومات کے لئے ’’شیخِ طریقت امیر اہل سنت بانیِ دعوتِ اسلامی حضرتِ علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَۃ‘‘ کا رسالہ’’ عقیقے کے بارے میں سوال جواب‘‘ اور مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ کتاب ’’بہارِ شریعت‘‘ جلد سوم ، حصہ ۱۵، عقیقہ کا بیان کا مطالعہ کیجئے۔
پہلے سے بہتر جزا 
	علامہ بَدْرُالدِّیْنعَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی عمدۃ القاری شرح بخاری میں فرماتے ہیں :’’اس حدیث سے بہت سے فائدے حاصل ہوئے،(۱)  مصیبت کے وقت غم کا اظہار نہیں کرنا چاہیے جیساکہ اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہانے صبر کیا اور اپنے نفس پر غالب رہیں۔(۲) اس حدیث میں حضرتِ سَیِّدَتُنا اُمِّ سُلَیْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے عظیم صبر اور ان کے راضی بقضاء (تقدیر پر راضی)رہنے کی تعریف ہے۔ (۳) ضرورت کے وقت توریہ(1) کرنا جائز ہے اور توریہ کے جائز ہونے کی شرط یہ ہے کہ اس سے کسی مسلمان کا حق زائل نہ ہو۔(۴)عورت کا اپنے شوہر کی خواہش کے لئے بننا سنورنا جائز ہے ۔(۵)جو اپنی محبوب چیز چلی جانے پر رضائے الٰہی کے لئے صبر کرے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے پہلے سے بہتر شے عطا فرماتا ہے جیسا کہ حضرتِ سَیِّدُنا ابو طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   کا ایک بیٹا فوت ہوا تو ان کی اولاد میں نو بیٹے ہوئے جو سب کے سب قراٰن کے قاری تھے ۔ (۶)جو رخصت کو چھوڑنے پر قادر ہو اُسے چاہیے کہ وہ عزیمت پر عمل کرے کیونکہ اس سے بندہ بلند درجات اور اجرِ عظیم پاتا ہے ۔(۷) ہمارے پیارے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی دعا ئیں بارگاہ الٰہی میں مقبول و مستجاب ہیں۔‘‘ (ملخصاًعمدۃ القاری، بخاری،۶/۱۳۶، تحت الحدیث:۱۳۰۱)
 کھجور کی گھٹی مستحب ہے
	علامہ اَبُوزَکَرِیَّا یَحْیٰ بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی شرح مسلم میں فرما تے ہیں :
(1)	توریہ "۔ یعنی لفظ کے جو ظاہرمعنی ہیں وہ غلط ہے مگر اس (کہنے والے) نے دوسرے معنی مراد لیے جو صحیح ہیں ، ایسا کرنا بلاحاجت جائز نہیں اور حاجت ہوتو جائز ہے(بہار شریعت ، ۳/۵۱۴،حصہ ۱۶)