Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
431 - 627
 پوری حدیث بیان کی  ۔
اُمِّ سُلیم حضرتِ سَیِّدَتُنا  رُمَیصَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا جنت میں 
	اُمِّ سُلَیْم کا نام رُمَیْصَاء تھا  پیارے آقا، مکّی مَدَنی مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :میں نے (شبِ معراج ) خود کو جنت میں دیکھا تو وہاں ابوطلحہ  رَضِیَ اﷲُ تَعَالٰی عَنْہُ  کی زوجہ رُمَیْصَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو دیکھا ۔
(بخاری،کتاب فضائل اصحاب النبی ، باب مناقب عمر بن الخطاب، ۲/ ۵۲۵، حدیث:۳۶۷۹)
	حضرتِ سَیِّدُنا اَبو طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے فوت ہونے والے صاحبزادے کا نام ’’اَبُو عُمَیْر‘‘تھا ،اس وقت وہ دودھ پیتے بچے تھے ایک چھوٹی چڑیا ان سے بہت مانوس تھی، ان کے ساتھ کھیلتی تھی۔نبیِّ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب ا ن کے گھر تشریف لے جاتے تو ارشاد فرماتے :’’یَا اَبَا عُمَیْر!مَا فَعَلَ النُّغَیْرُ‘‘ یعنی اے اَبُو عُمَیْر ، نُغَیْر (پرندے) نے کیا کیا؟  		(بخاری، کتاب الادب، باب الانبساط الی الناس …الخ، ۴/۱۳۴،حدیث:۶۱۲۹)
بچے کاعقیقہ کرنااور نام رکھنا 
	عَلَّامَہ ابُوالْحَسَناِبْنِ بَطَّالرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ شرح بخاری میں فرماتے ہیں :’’ حضرتِ سَیِّدُنا مُہَلَّبعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّب فرماتے ہیں :اگر بچے کا باپ پیدائش کے ساتویں دن اس کا عقیقہ کرنے کا ارادہ نہ رکھتا ہوتو بچے کی پیدائش کے دن یا ایک دو دن بعد اس کا نام رکھنا جائز ہے اور اگر وہ (ساتویں دن) بچے کا عقیقہ کرنا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ عقیقہ کے دن تک نام نہ رکھے (بلکہ عقیقہ کے دن نام رکھے)جیسا کہ حضرتِ سَیِّدُناسَمُرَہ بِنْ جُنْدُبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :لڑکا اپنے عقیقہ میں گِروی ہے ساتویں دن اس کی طرف سے جانور ذَبح کیا جائے اور اُس کا نام رکھا جائے اور سر مونڈا جائے۔ (ترمذی، کتاب الاضاحی، باب العقیقۃ بشاۃ، ۳/۱۷۷، حدیث:۱۵۲۷) مز ید فرماتے ہیں کہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس بچے کو کھجور کی گھٹی دی کیونکہ یہ اس درخت کا پھل ہے جسے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مومن سے تَشْبِیْہ دی اور اس کی مٹھاس کو بھی مومن سے تَشْبِیْہدی اس