Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
429 - 627
فَضَرَبَہَا الْمَخَاضُ، فَاحْتَبَسَ عَلَیْہَا أَبُوْ طَلْحَۃَ، وَانْطَلَقَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:یَقُوْلُ أَبُوْطَلْحَۃَ:إِنَّکَ لَتَعْلَمُ یَا رَبِّ!اَنَّہُ یُعْجِبُنِیْ أَنْ أَخْرُجَ مَعَ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ  إِذَا خَرَجَ  وَأَدْخُلَ مَعَہُ إِذَا دَخَلَ، وَقَدْ اِحْتَبَسْتُ بِمَا تَرَی، تَقُولُ أُمُّ سُلَیْمٍ:یَا أَبَا طَلْحَۃَ! مَا أَجِدُ الَّذِی کُنْتُ أَجِدُ،اِنْطَلِقْ، فَانْطَلَقْنَا، قَالَ وَضَرَبَہَا الْمَخَاضُ حِیْنَ قَدِمَا فَوَلَدَتْ غُلَامًا، فَقَالَتْ لِیْ أُمِّیْ:یَا أَنَسُ! لَا یُرْضِعُہُ أَحَدٌ حَتّٰی تَغْدُوَ بِہٖ عَلٰی رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ،فَلَمَّا أَصْبَحَ اِحْتَمَلْتُہُ فَانْطَلَقْتُ بِہٖ إِلٰی رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَذَکَرَ تَمَامَ الْحَدِیْثِ۔(بخاری، کتاب العقیقۃ، باب تسمیۃ المولود غداۃ یولد …الخ، ۳/۵۴۷، حدیث:۵۴۷۰ )   (مسلم ،کتاب فضائل الصحابۃ، باب من فضائل ابی طلحۃ، ص۱۳۳۳، حدیث:۲۱۴۴)
	ترجمہ: حضرتِ سَیِّدُنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حضرتِ  ابو طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  کا ایک صاحبزادہ بیمار تھا۔ آپ گھر سے باہر تشریف لے گئے توبچے کا انتقال ہوگیا، واپس آکر بچے کا حال پوچھا تو بچے کی ماں حضرتِ سَیِّدَتُنا اُمِّ سُلَیْمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے کہاکہ پہلے سے زیادہ پُرسکون ہے، پھران کے سامنے کھانا رکھا، انہوں نے کھایا اور پھر بیوی سے ہمبستر ہوئے اس کے بعد اُمِّ سُلَیْم نے کہا: بچے کو دفن کرو۔پھر صبح کے وقت  حضرتِ ابو طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نبیِّ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور واقعہ سنایا ۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پوچھا: کیا تم نے رات کو ہمبستری کی ؟عرض کی: جی ہاں ! آپ نے دعا مانگی: اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! ان دونوں کو برکت دے۔ چنانچہ، ان کے ہاں بچہ پیدا ہوا۔ حضرتِ سَیِّدُنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں حضرتِ  ابو طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے مجھ سے فرمایا: اسے اٹھا کر رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں لے جاؤ ساتھ ہی کچھ کھجوریں بھی دِیں۔نبیِّ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پوچھا: اس کے ساتھ کچھ ہے ؟ عرض کی: جی ہاں ! چند کھجوریں ہیں۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انہیں چبایا اور پھر بچے کے منہ میں رکھ دیں اور یوں اس کی تَحْنِیْک فرمائی اور اس کا نامعَبْدُ اللہ رکھا۔بخاری کی روایت میں ہے اِبْنِ عُیَیْنَہ فرماتے ہیں : ایک انصاری نے بتایا کہ میں نے عَبْدُ اللہ(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ) کی اولاد سے نو لڑکوں کو دیکھا سب کے سب قراٰن کے قاری تھے ۔