عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایاکہ ’’صبر نصف ایمان ہے اور یقین پورا ایمان ہے ۔‘‘
(التر غیب والترھیب ،کتاب الجنا ئز ، باب التر غیب فی الصبر۔۔۔الخ، ۴/۱۴۰، حدیث:۵)
(4)دنیا سے بے رغبتی کیا ہے؟
حضرتِ سَیِّدُنا اَبو ذر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایاکہ’’ حلال کو حرام ٹھہرا لینااور مال کو ضائع کردینا دنیا سے بے رغبتی نہیں ،بلکہ دنیا سے بے رغبتی تو یہ ہے کہ تمہیں اپنے پا س موجود مال سے زیادہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے خزانوں پر بھروسہ ہواور جب تمہیں مصیبت میں مبتلا کیا جائے تو تم اس کے ثواب میں زیادہ رغبت رکھو اور یہ تمنا ہو کہ کاش یہ میرے لئے باقی رہے۔‘‘
(ترمذی، کتاب الزھد ، باب ماجاء فی الزھادۃ فی الدنیا، ۴/ ۱۵۲، حدیث:۲۳۴۷)
مد نی گُلد ستہ
’’عثمان ‘‘کے 5حروف کی نسبت سے حد یث مذ کور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے5 مدنی پھول
(1) گنہگار مسلمان کو دنیا ہی میں گناہوں کی سزامل جانا بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نعمت ہے ۔
(2) ہر چھوٹی بڑی مصیبت پر صبر کرنا چاہیے کہ جتنی بڑی مصیبت ہوگی اس کی جزا بھی اتنی ہی بڑی ہوگی۔
(3) بے رغبتی کی اصل اللہ عَزَّوَجَلَّ پر بھروسہ ہے ۔
(4) بندے کی رضا رب کی رضا کے بعد ہے پہلے اللہ عَزَّوَجَلَّ بندے سے راضی ہوتا ہے تو بندہ رب سے راضی ہو کر اچھے اعمال کر تا ہے ۔
(5)مصائب پر صبر کرنے کا اَجر صرف مومنین کے لئے ہے کافروں کے لئے کوئی اجر نہیں۔
تُوْبُوْا اِلَی اللہ اَسْتَغْفِرُ اللہ
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد