Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
426 - 627
 میں ہائے وائے کرنا اس کے دفع کی کوشش کرنا یا مریض و مظلوم کا حکیم و حاکم کے پاس جانا ناراضی کی علامت نہیں ، ناراضی یہ ہے کہ دل سے سمجھے کہ رب نے مجھ پر ظلم کیا میں اس بلا کا مستحق نہ تھا یہاں صوفیاء فرماتے ہیں کہ بندے کی رضا رب کی رضا کے بعد ہے پہلے اللہ عَزَّوَجَلَّ بندے سے راضی ہوتا ہے تو بندہ رب سے راضی ہو کر اچھے اعمال کی توفیق پاتا ہے۔ (مراٰۃ المناجیح، ۲/۴۲۲)
 صَبْر کی فضیلت پر مشتمل 4روایات:  
(1) مومن کے لئے بھلائی ہی بھلائی ہے 
 	حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایاکہ’’ مومن کے معاملے پرتعجب ہے کہ اس کا سارامعا ملہ بھلائی پرمشتمل ہے اور یہ صرف مومن کے لئے ہے جسے خو شحالی حاصل ہوتی ہے تو شکر کرتاہے کیونکہ اسکے حق میں یہی بہتر ہے اور اگر تنگدستی پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے حق میں بہتر ہے ۔‘‘
(مسلم، کتاب الزھد والرقائق ،باب المومن امرہ کلہ خیر، ص ۱۵۹۸، حدیث:۲۹۹۹)
(2) سارے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں 
	 حضرتِ سَیِّدُنا سعد بن ابی وقا ص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی:’’ یَا رَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! سب سے زیادہ مصیبتیں کن لوگوں پر آئیں ؟‘‘ فرمایا:’’ انبیا ئے کرام عَلَیْھِمُ السَّلَام پر پھر ان کے بعد جولو گ بہتر ہیں پھر انکے بعد جوبہتر ہیں ، بندے کو اسکی دینداری کے اعتبار سے مصیبت میں مبتلا کیا جاتا ہے اگر وہ دین میں سخت ہوتا ہے تو اس کی آزمائش بھی سخت ہوتی ہے اور اگر وہ اپنے دین میں کمزور ہوتا ہے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی دینداری کے مطابق اسے آزماتا ہے۔ بندہ مصیبت میں مبتلاہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ دنیا ہی میں اسکے سارے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں۔‘‘( ابن ماجہ ، کتاب الفتن ،  باب الصبر علی البلاء ، ۴/۳۶۹، حدیث: ۴۰۲۳)
(3) صبر ویقین 
	حضرتِ سَیِّدُناابن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے راویت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی