Brailvi Books

فیضانِ ریاض الصالحین
137 - 627
ضروری ہے جب تک فرض ادا نہ کرے گا بری الذمہ نہ ہوگا)۔
(2)گناہ کے خیال (ھَمّ ) اور گناہ کے پختہ ارادے( یعنی عزم ) میں فرق ہے پختہ ارادے پر انسان گنہگار ہوجاتا ہے، یہاں خیالِ گناہ کا ذکر ہے، لہٰذا یہ حدیث اُس حدیث کے خلاف نہیں کہ ’’جب دو مسلمان لڑیں اور ایک مارا جائے تو قاتل و مقتول دونوں جہنمی ہیں کیونکہ مقتول نے بھی قتل کا ارادہ کیا تھا اگرچہ پورا نہ کرسکا‘‘ وہاں گناہ کا عَزْم بِالْجَزْم (یعنی پختہ ارادہ )مرادہے۔
(3)اگرکوئی چوری کرنے کا پختہ ارادہ کرلے مگر موقع نہ پائے تووہ بھی گنہگار ہوگا ، یونہی جو کفر کا پختہ ارادہ کرلے وہ کافر ہوجاتاہے۔ خیالِ گناہ، گناہ نہیں بلکہ بعد میں اس خیال سے توبہ کرلینا نیکی ہے ،البتہ گناہ کا پختہ ارادہ کرلینا گناہ ہے۔  
	اے ہمارے رحیم وکریم پروردگار عَزَّوَجَلَّ  ہمیں اچھی و نیک سوچ عطافرما، برے خیالات وبری فکر سے ہماری حفاظت فرما ۔ ہروقت اپنی اور اپنے پیارے حبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی یاد میں گُم رہنے کی سعادت عطا فرما ! 
محبت میں اپنی گُما یاالٰہی			 نہ پاؤں میں اپنا پتا یاالٰہی 
اور
ایسا گُمادے اُن کی وِلا میں خدا ہمیں
ڈھونڈا کریں پر اپنی خبر کو خبر نہ ہو

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الاَْمِیْنصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
٭٭٭٭٭