Brailvi Books

فيضانِ حضرت آسیہ(رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا)
31 - 35
تاریکیوں کا ایسا غلبہ تھا کہ مجھے کچھ سجھائی نہ دیتا تھا۔ بالآخر ایک دن یہ تاریکیاں چھٹ گئیں اور سَعَادتوں کا چاند طلوع ہوگیا۔ ہوا یوں کے پنجاب سے میرے سگے بھانجے (جو عطّاری بھی ہیں)مجھ سے ملنے کے لئے باب المدینہ کراچی آئے۔ رَمَضَانُ الْمُبَارَک کا مہینہ اپنی برکتیں لٹا رہا تھا۔ میرے بھانجے نے مجھے دعوتِ اسلامی کے اسلامی بہنوں کے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی دعوت دی۔ اس کی انفرادی کوشش کی وجہ سے میں عالَمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ میں ہونے والے اسلامی بہنوں کے ہفتہ وار اجتماع میں جانے کے لئے تیار ہوگئی۔ جب میں اپنے علاقے کی اسلامی بہنوں کے ساتھ بس میں سوار ہو کر فیضانِ مدینہ پہنچی تو اسلامی بہنوں کی کثیر تعداد دیکھ کر دنگ رہ گئی کیونکہ اس سے پہلے میں نے اتنی تعداد میں باپردہ اسلامی بہنیں ایک مقام پر کبھی نہیں دیکھی تھیں۔ اس اجتماع میں شرکت کی برکت سے میری زندگی کا رخ ہی بدل گیا۔ میں زندگی بھر کبھی خوفِ خدا عَزَّ وَجَلَّ سے نہیں روئی تھی مگر دورانِ دُعا روتے روتے میری ہچکیاں بندھ گئیں۔ میں نے گناہوں سے تائب ہو کر دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ رہنے کا پختہ اِرادہ کر لیا ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ میری فلمیں ڈرامے دیکھنے کی خصلتِ بد نکل گئی، میں نمازی اور سنّتوں کی عامِلہ بن گئی ، شرعی پردہ کرنے کے لئے مدنی برقع اوڑھ لیا اور نیکیوں پر استقامت پانے کے لئے شیخ طریقت، امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے عطا کردہ مدنی انعامات پر عمل شروع کر دیا۔ تادمِ تحریر دعوتِ اسلامی کی تنظیمی ترکیب کے مُطَابِق علاقائی مُشَاوَرَت