Brailvi Books

فيضانِ حضرت آسیہ(رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا)
30 - 35
اور یوں بھی راہِ خدا میں تکالیف ومَصَائِب برداشت کرنا عظیم سَعَادت ہے جو بندے کی بخشش ومغفرت اور مدارِجِ عالیہ (بلند وبالا درجوں) تک رسائی کا باعث بنتے ہیں۔ آئیے! اسلاف کی پاکیزہ سیرت کے مُطَابِق زندگی بسر کرنے کے لئے تبلیغ قرآن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے مہکے مہکے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہو جائیے جس کی برکت سے لاکھوں دلوں میں سیِّدِ عالَم، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی محبت اور دین کے مُعَاملے میں تن من دھن قربان کرنے کا جذبہ گھر کر چکا ہے، مغربی تہذیب کے دِل دَادہ بےشمار افراد کی زندگیوں میں مَدَنی انقلاب برپا ہو چکا ہے اور وہ عملی طور پر اسلاف کی سیرت کے سانچے میں ڈھل چکے ہیں۔ یہاں ایک ایسی ہی اسلامی بہن کی مدنی بہار ذِکْر کی جاتی ہے، چنانچہ باب المدینہ (کراچی )کی ایک اسلامی بہن کی تحریرکا خلاصہ ہے کہ پہلے پہل میں بےنمازی اور فیشن زدہ ہونے کے ساتھ ساتھ فلمیں ڈرامے دیکھنے اور گانے باجے سننے کی بھی انتہائی شوقین تھی ۔ پردے کی طرف تو بالکل ہی رجحان نہ تھا بلکہ مجھے برقع ہی پسند نہیں تھا، اگر کسی جاننے والی اسلامی بہن کو برقع پہنے دیکھ لیتی تو اس کا خوب مذاق اڑاتی۔ بات بات پر مذاق مسخری کی عادت میرے کِردار کا حصہ تھی۔ افسوس! عِلْمِ دین سے اتنی کوری تھی کہ یہ بھی نہ جانتی تھی کہ سنتیں کیا ہوتی ہیں؟ ان پر عمل کرنے سے ثواب ملتا ہے۔ اگرگھر میں سے کوئی میری اِصْلَاح کرنے کی کوشش کرتا تو اس کی باتوں کو مذاق میں اُڑا دیا کرتی تھی۔ میری زندگی پر گناہ کی