عَلَیْہِمَا) جناب فاطمہ زہرا، خدیجہ اور عائشہ صِدِّیقہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ) سے افضل ہوں۔ یہ بیبیاں حضرت آسیہ ومریم (رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا) سے افضل ہیں۔(1)
۳حُضُورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے شَرَفِ زوجیت
آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا کی ایک بہت بڑی فضیلت یہ ہے کہ آپ جنت میں پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زوجہ ہوں گی چنانچہ مروی ہے کہ جب حضرت خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنۡہَا مرضِ وفات شریف میں مبتلا تھیں تو سرکارِ عالی وقار، محبوبِ ربِّ غفّار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آپ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: اے خدیجہ! تمہیں اس حالت میں دیکھنا مجھے گراں (ناگوار) گزرتا ہے لیکن اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس گراں گزرنے میں کثیر بھلائی رکھی ہے۔ تمہیں معلوم ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جنت میں میرا نکاح تمہارے ساتھ، مریم بِنْتِ عمران، حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی بہن کلثم اور فرعون کی بیوی آسیہ کے ساتھ فرمایا ہے۔(2)
سفرِ آخِرَت اور مزار مُبَارَک
حضرت موسیٰ عَلَیہِ الصَّلوٰۃُ وَ السَّلَامُ کی حیاتِ ظاہِری میں ہی جبکہ ابھی بنی اسرائیل فرعون کے جابِرانہ تسلط سے آزاد نہیں ہوئےتھے، اس بدبخت کے مظالم سہتے سہتے آپ نے اپنی جان، جان آفرین کے سپرد کی اور مرتبۂ شہادت پر جاگزیں ہوئیں۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
...مراۃ المناجیح، نبیوں کا ذکر، پہلی فصل، ۷/۵۹۵
2...معجم كبير، ذكر تزويج رسول الله صلى الله عليه وسلم خديجة...الخ، ٩/٣٩٣، الحديث:١٨٥٣١