Brailvi Books

فيضانِ حضرت آسیہ(رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا)
27 - 35
٭مَردوں میں تو بہت کامِل ہوئے، عورتوں میں مریم بِنْتِ عمران اور فرعون کی بیوی آسیہ (رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا) کے عِلاوہ کوئی کامِلہ نہ ہوئی۔(1)
عورتوں کا مرتبۂ کمال
بیان کردہ رِوَایَت میں عورتوں کے کامِل ہونے کا ذِکْر گزرا اس کی وضاحت کرتے ہوئے مفسر شہیر، مُحَدِّثِ جلیل حضرت علّامہ مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی فرماتے ہیں: خيال رہے کہ يہاں کمال سے مراد نبوت ورِسَالَت نہيں کيوں کہ یہ کمال تو صرف انسان مَردوں کو ہی ملا ہے کوئی عورت اور کوئی   غير انسان نبی نہيں ہوئے بلکہ (اس سے) مراد وِلَايَتِ کامِلہ قطبیت غوثیت وغيرہ ہے اور ربّ تعالیٰ سے قربِ خاص، کہ یہ صِفَات مَردوں کو زيادہ عورتوں کو کم ملے؛ نبوت کے متعلق ربّ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَمَاۤ اَرْسَلْنَا مِنۡ قَبْلِکَ اِلَّا رِجَالًا نُّوۡحِیۡۤ اِلَیۡہِمۡ  (پ١٣، يوسف، ١٠٩)
ترجمۂ کنزالایمان: اور ہم نے تم سے پہلے جتنے رسول بھیجے سب مرد ہی تھے جنہیں ہم وحی کرتے۔
نبوت کے فرائض عورت انجام نہیں دے سکتی، پردہ میں رہ کر عام تبلیغ نہیں ہو سکتی۔ یہ بھی خیال رہے کہ یہاں نِسَاء (عورتوں) سے مراد اُس زمانہ کی عورتیں ہیں لہٰذا اس سے لازِم یہ نہیں آتا کہ حضرت آسیہ ومریم (رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
...بخارى، كتاب احاديث الانبياء، باب قول الله تعالى: واذ قالت الملئكة يمريم، ص٨٨٢، الحديث:٣٤٣٣