Brailvi Books

فيضانِ حضرت آسیہ(رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا)
25 - 35
 واعلیٰ اور سب سے برتر رسول حُضُور احمدِ مجتبیٰ مُحَمَّد مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر نازِل ہوئی، پارہ 28، سُورَۃُ التحریم میں خالق کائنات جَلَّ جَلَالُہٗ کا فرمانِ عالی شان ہے:
وَ ضَرَبَ اللہُ مَثَلًا لِّلَّذِیۡنَ اٰمَنُوا امْرَاَتَ فِرْعَوْنَ ۘ اِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِیۡ عِنۡدَکَ بَیۡتًا فِی الْجَنَّۃِ وَ نَجِّنِیۡ مِنۡ فِرْعَوْنَ وَ عَمَلِہٖ وَ نَجِّنِیۡ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿ۙ۱۱﴾ (پ٢٨، التحریم:١١)
 ترجمۂ کنزالایمان: اور اللہ مسلمانوں کی مثال بیان فرماتا ہے فرعون کی بی بی جب اس نے عرض کی اے میرے ربّ میرے لئے اپنے پاس جنت میں گھر بنا اور مجھے فرعون اور اس کے کام سے نجات دے اور مجھے ظالم لوگوں سے نجات بخش۔
تفسیر بحر العلوم میں ہے کہ اس آیَت میں مسلمانوں کو تنگی اور سختی کے وَقْت صبر کرنے پر اُبھارا گیا ہے۔ مراد یہ ہے کہ تم صبر کرنے میں فرعون کی بیوی حضرت آسیہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا سے کمزور مت ہونا جنہوں نے فرعون کے مظالم پر صبر کیا (اور زبان تو کجا دل میں بھی شکوہ وشِکَایَت کو جگہ نہ دی۔)(1) 
٢احادیث میں مقام ومرتبے کا بیان
آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا کے مقام ومرتبے اور فضل وکمال کے بیان میں پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی کئی احادیث وارد ہیں، چنانچہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
...تفسير بحر العلوم، پ٢٨، التحريم، تحت الآية:١١، ٣/٣٨٣.