میں فرعون نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی توہین وتکذیب کی اور لوگوں کو آپ کی مُخَالَفَت پر اکسایا تو وہ تباہ وبرباد ہو گیا اور ہمیشہ کے لئے ذلیل وخوار اور نارِ جہنم کا مستحق ہو گیا۔ امام فخر الدِّین ابو عبد اللہ محمد بن عمر رازی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی صحا بِیِ رسول حضرت سیِّدنا عبد اللہ بن عبّاس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے نقل کرتے ہیں کہ جب حضرت آسیہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا نے یہ الفاظ کہے:
قُرَّتُ عَیۡنٍ لِّیۡ وَلَکَ ؕ (پ٢٠،القصص:٩)
ترجمۂ کنزالایمان: یہ بچہ میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔
تو بدبخت فرعون کہنے لگا: تیرے لئے ہو گا، مجھے اس کی کوئی حاجت نہیں۔ پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں: اس ذات کی قسم جس کی قسم کھائی جاتی ہے، اگر آسیہ کی طرح فرعون بھی اس بات کا اقرار کرتا کہ یہ بچہ اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے تو ضرور اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے ہِدَایَت عطا فرماتا جیسے آسیہ کو عطا فرمائی۔(1) ذیل میں حضرت آسیہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا کے چند دیگر فضائل ومَنَاقِب ذِکْر کئے جاتے ہیں چنانچہ
۱قرآنِ کریم میں ذِکْر
اس بلند رتبہ پاک کتاب قرآنِ کریم میں آپ کا ذِکْر ہے جو سب سے افضل
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
...التفسير الكبير، پ٢٠، القصص، تحت الآيه:٩، ٨/٥٨١
مسند ابى يعلى، اول مسند ابن عباس، ٢/٣٣٩، الحديث:٢٦٢٠
مستدرك حاكم، كتاب تواريخ المتقدمين...الخ، باب ذكر موسى وهارون عليهما السلام، ٣/٤٥٨، الحديث:٤١٥٠، بتغير، موقوف على ابن عباس.