Brailvi Books

فيضانِ حضرت آسیہ(رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا)
23 - 35
رکھنے کی سَعَادت حاصِل ہوئی چنانچہ حضرت سیِّدنا امام عَلَاءُ الدِّین علی بن محمد خازِن رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ حضرت آسیہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا سے ان کا نام رکھنے کے لئے کہا گیا تو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا نے فرمایا: میں نے اس کا نام موسیٰ رکھا۔(1)چونکہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پانی اور درختوں کے درمیان پائے گئے تھے اور قبطی زبان میں پانی کو ”مو“ اور درخت کو ”سی“ کہتے ہیں۔(2) اس لئے آپ کا یہ نام رکھا گیا۔
خدمتِ پیغمبر کی برکت
پیاری پیاری اسلامی بہنو! انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی خدمت، ان کی تعظیم وتوقیر اور ان سے محبت وعشق عظیم سَعَادت ہے جبکہ ان کی توہین وتکذیب، نفرت وعداوت اور ان کی شان میں کسی نازیبا کلمے کا استعمال ہلاکت اور تباہی وبربادی کا سبب ہے، ان کی محبت ایمان کی جان ہے یہ بندے کو کائنات کی پستیوں سے اُٹھا کر ثُرَیَّا کی بلندیوں پر پہنچا دیتی ہے اور ان سے نفرت وعداوت ایمان کے لئے سخت تباہ کن ہے۔ دیکھئے! حضرت آسیہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا نے ایک جلیل القدر نبی حضرت سیِّدنا موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی خدمت کی، ان کی راحت وآرام کا خیال رکھا، پرورش ونگہداشت کی اور ایمان لا کر ان کی تصدیق کی اس سے آپ کی قسمت کا ستارہ چمکا اور آپ کو وہ دائمی عزت وشوکت عطا ہوئی جسے زوال نہیں جبکہ ان کے مُقَابَلے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
...تفسير خازن، پ٢٠، القصص، تحت الآية:٧، ٣/٣٥٨
2...در منثور، پ٢٠، القصص، تحت الآية:٤، ٦/٣٩١