Brailvi Books

فيضانِ حضرت آسیہ(رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا)
22 - 35
ہے۔ آئیے! اس نازُک صورتِ حال سے نمٹنے کے لئے تعلیماتِ اِسْلَامیہ کو عملی طور پر اپنائیےاور نِہَایَت ہی عاجزی واِنکساری کے ساتھ بارگاہِ الٰہی میں دَسْتِ سوال دراز کیجئے کہ اے ہمارے ربِّ کریم...اے پاک پروردگار ... اے ہر شے پر قادِر مالِک ومولیٰ...اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ...!!
؎	تجھے واسطہ اپنی قدرت کا ہے
تجھے واسطہ اپنی سطوت کا ہے
تجھے واسطہ اپنی عظمت کا ہے
تجھے واسطہ اپنی رحمت کا ہے
زمانے کی گردش میں رکھ لینا آج
جنابِ مُحَمَّد کی اُمّت کی لاج
کیونکہ اس رحیم وکریم پروردگار عَزَّ وَجَلَّ کی قدرت سے کچھ بعید نہیں کہ وہ مسلمانوں کو ایک بار پھر وہی پہلے کا سا جاہ وجلال، شان و وَقار اور شوکَتِ اقتدار عطا فرما دے جب ان کا نام سن کر کفار کے دل دَہل جایا کرتے تھے اور طاقت ور ترین قوموں کے دلوں پر ان کی عظمت کا سکہ بیٹھا ہوا تھا۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!		صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کا نام کس نے رکھا...؟
حضرت آسیہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ایک پیارے نبی حضرت سیِّدنا موسیٰ کَلِیْمُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا نام