کہ فرعون نے جس بچے کے خوف سے ہزاروں بےگناہ بچے ذَبح کروا دئیے، رَبُّ الْعِزّت تَبَارَکَ وَتَعَالٰی نے اسی بچے کی پرورش ونگہداشت کی خدمت اسے سونپ دی۔ اس سے یہ بھی مَعْلُوم ہوا کہ اللہ رَبُّ الْعِزّت جس کی حِفاظَت فرمانا چاہے بڑے سے بڑا طُوفان اس کا بال بھی بِیْکا نہیں کر سکتا، دیکھئے! حضرت سیِّدنا موسیٰ کَلِیْمُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو کس طرح دریائے نیل کی موجوں سے ماں کی گود میں پہنچا دیا...سُبْحٰنَ اللہِ
؎ تو نے کس شان سے موسیٰ کی بچائی ہے جان
تیری قدرت پہ میں قربان خُدائے رحمن
آہ! آج اُمَّتِ مسلمہ نِہَایَت زَبُوں حالی کا شِکار ہے، اِسْلَام دشمن طاغوتی طاقتیں بَرسر پیکار ہیں، کہیں بےقُصُور مسلمان عورتوں، بچوں، بوڑھوں اور جوانوں کو نِہَایَت سَفّاکیت اور بےدردی کے ساتھ شہید کیا جا رہا ہے تو کہیں بہیمانہ مظالم ڈھا کر انہیں اِسْلَام سے برگشتہ کرنے کی سرتوڑ کوششیں کی جا رہی ہیں اور عالمی سطح پر اِسْلَامی تہذیب وثقافت کو اس بےدردی سے کچلا جا رہا ہے کہ الامان والحفیظ۔ اس کی ایک بڑی وجہ مسلمانوں کا عملی طور پر اِسْلَام سے دُور ہو جانا اور اس کی تعلیمات بُھلا بیٹھنا