محبت الٰہی میں مشغول کرے نہ یہ کہ اسے مال و دولت سے سیر کرے ۔
٭…اکثر لوگ اپنے نسب پر فخر کرتے ہیں ،گویا کہ قیامت کا انہیں کچھ ڈر نہیں ہوتا اور وہ یہ نہیں جانتے کہ اعمالِ صالحہ کے بغیر کوئی چارہ نہیں ۔سالک کو چاہئے کہ اپنے حسب نسب پر فخر کرنے کے بجائے یادِ الٰہی میں مشغول رہے ۔
٭… متکبر انسان کی عبادت قابل قبول نہیں ہوتی،تکبر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ناراضی کا موجب اور ایمان کے لئے مضر ہے ۔تکبر انسان کو عرفان سے محروم رکھتا اور ذلیل و خوار کرتا ہے ۔
٭…دل کی صفائی اورفکر کی روشنائی کے لئے ذِکر ناگزیر(ضروری)ہے ۔
٭…اگر دونوں جہاں میں فلاح چاہتے ہو تو درود شریف پڑھا کرو ۔
٭…تمام عبادتوں کی روح محبتِ الٰہی ہےجس شخص میں محبتِ الٰہی جتنی زیادہ ہوتی جائے گی اتنا ہی وہ عبادت و ریاضت زیادہ کرنے لگے گا ۔
٭… عالم کو چاہئے کہ جب وعظ و نصیحت کرے تو حلم(بردباری )اختیار کرے کیونکہ حلم کے بغیر علم درختِ بے ثمر (بغیر پھلوں کے درخت)اور نانِ بے نمک(بغیر نمک کے روٹی ) ہے۔
٭… مرید کو چاہئے کہ ہر ایک کی خدمت کرے اور ادب سے پیش آئے کیونکہ خدا کے کامل بندے ہر لباس میں پائے جاتے ہیں اور ان کے طفیل بعض