Brailvi Books

فیضانِ شَمسُ العَارِفِین
69 - 77
 فرمایا:قرآن پاک اور دوسری آسمانی   کتابوں  میں نبیٔ کریم صَلَّی  اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ  وَسَلَّم  کے متعدد اسمائے گرامی کا ذکر آیا ہے،جن میں سے ایک اسم ’’اُمِّی ‘‘بھی ہے۔ اس کے تین معنیٰ بیان کیے گئے ہیں :
(۱)اُمّیسے کہتے ہیں جس نے کسی سے لکھنا پڑھنا نہ سیکھا ہو اور نبیٔ کریم صَلَّی  اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ  وَسَلَّم  کی یہی کیفیت تھی ۔
(۲)عرب اپنے محاورے میں ہر چیز کی اصل کو ’’اُم‘‘ کہتے ہیں ۔ مکہ معظمہ کو ’’اُم ُّالقریٰ‘‘اسی لئے کہا گیا ہے کہ وہ درجے کے لحاظ سے تمام شہروں کا سردار اور محل وقوع کے لحاظ سے زمین کے مرکزی نقطے پر واقع ہے۔نبی کریم صَلَّی  اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ  وَسَلَّم  کو اللہ تعالیٰ نے ’’اُمِّی ‘‘ کا لقب اسی لیے دیا ہے کہ آپ صَلَّی  اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ  وَسَلَّم  تمام موجودات کے اصل الاصول ہیں ۔
  (۳)اُمّی کے تیسرےمعنیٰ نسبتی ہیں،چونکہ آپ صَلَّی  اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ  وَسَلَّم مکہ میں پیدا ہوئے ،لہٰذا ’’اُمُّ الْقُریٰ ‘‘ کی نسبت سے ’’اُمّی ‘‘بمعنیٰ مکی کہلائے ۔مزید فرماتے ہیں :آپ صَلَّی  اللہُ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ  وَسَلَّم  باوجود اُمّی ہونے کے ازل سے ابد تک کا علم رکھتے تھے۔(1)
٭… پیر وہ ہے جو اپنے مرید کو قلبی غنا بخشے اور اس کا دل دنیا سے موڑ کر 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
 … مراٰۃ العاشقین مترجم ،ص۲۵ بتغیر