کے وقت شدت کی گرمی تھی ،کسی زمیندار نے آکر دعا کے لیے عرض کی اور انسانوں اورحیوانوں کی ناگفتہ بہ حالت کی ترجمانی اس درد انگیز لہجے میں کی کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے جسم پر لرزہ طاری ہو گیا ،بچشمِ نم اس شخص سے فرمایا:باہر جا کر کسی اونچی جگہ کھڑے ہوکر دیکھو کہیں آسمان کے کناروں پر کوئی ابر بھی ہے؟ اس نے واپس آکر بتایا کہ کہیں بھی کوئی ابر موجودنہیں۔آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ یہ سن کرخاموش ہوگئے۔ کچھ دیر کے بعد حاضرین سے فرمانے لگے کہ میں اپنی چارپائی کمرے میں لے جاتا ہوں کیونکہ مجھے سردی محسوس ہورہی ہے۔اسی دوران اچانک آسمان پر بادل چھا گئے اورکئی روز لگاتار بارش ہوتی رہی۔ایک دن وہی شخص پھر حاضر ہوا اورعرض کی:اب تو بارش کی وجہ سے ہمارے مکان بھی گرنے لگے ہیں، دعا فرمائیے! بارش رُک جائے ۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہمسکرائے اوراپنی چارپائی باہر لے آئے۔اسی وقت سورج ظاہر ہو گیا اور آسمان پر چھائے بادل منتشر ہوگئے ۔(1)
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
علم و حکمت بھرے ملفوظات
لفظ اُمِّی کے تین معنیٰ
٭…حضرت خواجہ شمس الدین سیالویرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ایک مرتبہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… برکاتِ سیال ،ص۱۵ملخصاً