آپ نے خصوصی نوازشات فرمائیں، اس نےعرض کی:حضور !میرے والدین اولاد نہ ہونے کی وجہ سےمیری دوسری شادی کراناچاہتے ہیں لیکن چونکہ میرا دل شیخ کی محبت سے فارغ ہی نہیں ہوتا کہ اس قسم کی تجویز پر غور کروں۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ میرے لیے نیک اولاد کی دعا فرمادیں۔آپرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نےخصوصی دعا فرمائی اورایک تعویذاپنے ہاتھ مبارک سے لکھ کر دیا اور فرمایا :اس کو اہلیہ کے دائیں بازو پر باندھ دو!اس نے اسی طرح کیا۔جمعۃ المبارک ۱۷شعبان ۱۲۹۷ھ عصر کےوقت اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت شیخ کے طفیل بیٹا عطا فرمایا۔ایک سال بعد جب آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوا تواس نے بچے کی خوشخبری دی،آپرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے پوچھا :بچے کا نام کیا رکھا؟عرض کی :محمد یوسف۔فرمایا: مبارک ہو،اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کا بھائی بھی عطا فرمائے گا۔آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کا یہ ارشاد اس نے اپنے دل میں پوشیدہ رکھا لوگوں پر ظاہر نہ کیا حتی کہ بروز منگل ۱۴ صفر۱۳۰۰ھ کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اسے ایک اور بیٹا عطا فرمایا ۔(1)
کئی روز لگاتار بارش
ایک دفعہ سیال شریف اور اس کے گرد و نواح میں مسلسل دوسال تک بارش نہ ہوئی۔انسان وحیوان،چرندوپرند قطرۂ آب کو ترس گئے،ایک روز دوپہر
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…مراٰۃ العاشقین مترجم ،ص۲۰