تَعَالٰی عَلَیْہ سے خرقۂ خلافت سے سرفراز ہو کرراہِ حق کے متلاشیوں کی رہنمائی کا فریضہ سرانجام دینا شروع کیا۔ سرکی شریف میں ایک دینی مدرسہ کی بنیاد رکھی جس میں شریعت ومعرفت کے متلاشی دور دور سے آکر اپنی پیاس بجھاتے اور پھر اپنے اپنے وطن لوٹ جاتے۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا وصال مبارک ۱۵رجب المرجب۱۳۰۵ہجری 28مطابق مارچ1888ء کو اٹھاون سال کی عمر میں ہوا۔مزارِ اقدس آج بھی سرکی شریف وادیٔ سون ضلع خوشاب پنجاب پاکستان میں مَرجَعِ خَلائِق ہے۔(1)
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حضرت شمس العارفین کی کرامات
حضرت خواجہ شمس الدین سیالویرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ صاحبِ کشف و کرامت بزرگ تھے۔آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے بے شمار کرامات رونما ہوئیں جن میں سے دو کرامات ذکر کی جاتی ہیں ،چنانچہ
اولادِ نرینہ
حضرت خواجہ شمس الدین سیالویرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا ایک مرید آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے بے حدعقیدت و محبت کرتا تھا۔ایک بار آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوا تو
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… اولیائے وادیٔ سون حصہ اول سن اشاعت 1999ماخوذا