قُسْطَنْطِیْنِیَّہ ،عراق، مصر ،شام ،فلسطین اور ایران کا سفر کیا اور پھر حرمین شریفین حاضر ہوئے اور مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں درسِ حدیث کی خدمت سر انجام دی۔ شیخ الحرمین شیخ جمال بن عبداللہ حنفی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی طرف سے آپ کو ۱۲۸۴ ھ میں حدیث کی سند فضیلت عطا ہوئی ۔ ۱۲۸۵ ھ کو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ واپس سیال شریف تشریف لے آئےاور پیر و مرشد کی خدمت میں حاضر ہو گئے ۔حضرت خواجہ شمس الدین سیالوی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے دربار عالیہ سیال شریف کی اہم خدمات آپ کے سپرد فرمادیں جن میں صاحبزادوں کی تعلیم و تربیت ،نماز پنجگانہ کی امامت ،طلبا کادرس ،مثنوی مولانا روم کاعارفانہ درس ،فتویٰ نویسی،لنگر شریف میں مہمانوں کے قیام و طعام کا انتظام ،تعمیرات کی مرمت کی نگرانی جیسے اہم اُمُور آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے سپرد تھے ۔ حضرت خواجہ شمس الدین سیالوی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے خلفا میں آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کو سب سے زیادہ شیخ کی خدمت اور صحبت نصیب رہی ۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے تصوف کی کئی کتب لوائح جامی ،مرقع کلیمی اور کشکول کلیمی وغیرہ اپنےپیرومرشد سے سبقا پڑھیں ۔ چودہ سال چار ماہ پیر و مرشد کی خدمت فرمائی ، اکثر و بیشتر سفر میں پیرو مرشد کی خدمت میں حاضر رہا کرتے۔ پیر و مرشد کے وصال کے بعد آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ غسل میں بھی شریک رہے اور نمازِ جنازہ بھی آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے ہی پڑھایا تھا۔ شمس العارفین حضرت خواجہ شمس الدین سیالوی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے آپ کو خلافت و