آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے ابتدائی تعلیم حفظ قرآن اور تجوید و قرأت اپنے ماموں محمدامین رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی نگرانی میں مکمل فرمائی۔پھر آپ کے ماموں جان نے آپ کو شمس العارفین حضرت خواجہ شمس الدین سیالوی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی خدمت میں پیش کر کے بیعت کروایا۔ حضرت خواجہ شمس العارفین رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے بیعت کرنے کے بعد فرمایا:’’معظم الدین علم حاصل کرو ‘‘۔چنانچہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ تعمیل ارشاد میں حصول تعلیم کے لئے گھر کو خیر آباد کہہ کرمرکزاولیا لاہور پہنچے اور ایک مدرسہ میں زیر تعلیم رہے۔ وہاں سے بمبئی کے لئے رختِ سفر باندھا اور کئی سال تک ہیں علم حاصل فرمایا۔آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ خود فرماتے ہیں :میں نے اٹھارہ سال کا عرصہ کمال عرق ریزی سے تحصیل علوم دینیہ میں صَرف کیا اور اس قدر مطالعہ میں استغراق پیدا کیا کہ اخیر کے دو سال اکثر عشا کے بعد نماز فجر تک ساری رات مطالعہ میں گزر جاتی اور لذتِ مطالعہ کےباعث وقت گزرنے کا پتہ ہی نہ چلتا، اذانِ فجر سننے سے تعجب ہوتا کہ ابھی تو نماز عشا پڑھی تھی اور ابھی صبح ہوگئی ۔مدرسہ کی انتظامیہ نے آپ کےلئے یومیہ ایک پیسہ وظیفہ مقرر کیا ہوا تھا جسے آپ اس طرح خرچ کرتے کہ نصف پیسے سے بھنے ہوئے چنے اور نصف پیسےکا چراغ کے لئے تیل خرید لیتے ۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ حج کے لئے روانہ ہوئے ۱۲۸۱ ھ میں حجاز مقدس پہنچے اور حج بیت اللہ کی سعادت سے بہرہ ور ہوئے ،اس کے بعد آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے