گزار اور صالحہ خاتون تھیں۔حضرت غلام حیدر شاہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ پانچ،چھ سال کی عمر سے ہی نماز، روزے کی پابندی فرماتے تھے اور اتنی چھوٹی سی عمر میں سخت گرمی کے موسم میں بھی روزے رکھتے تھے۔جب کچھ ہوش سنبھالا تو سب سے پہلے قرآن پاک کی تعلیم حاصل کی پھر جید علمائے کرام کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اورعلمی استفادہ کیا۔ ۱۷ رجب المرجب ۱۲۷۱ ھ کو حضرت خواجہ شمس الدین سیالوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے دست مبارک پر بیعت ہوئے۔بیعت ہو جانے کے بعد آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکا یہ دستور تھا کہ ہر دسویں دن پیر و مرشد کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے ،چھٹی مرتبہ جب شیخ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انھوں نے آپ کو خرقہ خلافت سے نوازا اور اجازت بیعت سے سرفرازفرمایا۔آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ خواجہ شمس العارفین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پہلے خلیفہ ہیں۔آپ کواپنے پیرو مرشد سے بے پناہ محبت تھی ، اتنا ادب کرتے تھے کہ شیخ کے سامنے بولنے کی بھی ہمت نہ ہوتی تھی ،ایک مرتبہ پیر و مرشد کے نام ایک منظوم مکتوب لکھا مگر ادب کی وجہ سے شیخ کی خدمت میں پیش نہ کر سکے ۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکا اخلاق نہایت اعلیٰ تھا، عاجزی و انکساری آپ میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی ،غریبوں کی طرف خاص توجہ فرماتے تھے اور کبھی کسی کے لیے بد دعا نہ فرماتےتھے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا وصال ۶ جمادی الثانی ۱۳۲۶ ھ کو ہوا،مزار ِ پُرانوار جلالپور شریف (ضلع جہلم ) میں مَرجَعِ خَلائِق ہے۔(1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… تاریخ مشائخ چشت ،ص۵۳۸ ملتقطا