تصنیف و تالیف کا کام نہیں کرسکے۔البتہ آپ کے ارشادات اورملفوظات آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کےمرید و خلیفہ حضرت مولانا سید محمد سعید شاہ حسینی زنجانی حنفی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے مرآۃالعاشقین کے نام سے مرتب کیے ہیں ۔(1)
وصىت نامہ
حضرت خواجہ شمس الدینرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنے وصال سے 39 دن پہلے اپنى وفات کى خبر دے دى تھى، ۱۵ محرم ۱۳۰۰ھ کو بروز سوموار (پیر )بوقت چاشت آپ نے صاحبزادہ محمد دىن سیالوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو اپنے پاس بلاىا اور اپنے سامنے بٹھا کر فرماىا:اے فرزندِ ارجمند ! دنىا کے گوناگوں حالات مجھے پىش آئے ہىں، مىرے دادا بزرگوار کئى دىہات مىں اراضى اور جائىداد رکھتے تھے ،ان کے پاس مال موىشى اور بہت کچھ ساز و سامان تھا،اسى طرح مىرے والد صاحب بھى فارغ البال تھے۔جب مىں نے حضرت تونسوى رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے بىعت کى تو مىرے پاس ظاہرى اسباب روز بروز گھٹتے گئے ، چنانچہ کبھى مجھے روٹى مل جاتى اور کبھى سات سات دن فاقے سے گزار دىتا تھا، لىکن مىں نے کبھى کسى کے سامنے اپنى فاقہ کشى کا راز فاش نہ کىا، اس وقت خدا کے فضل سے مىرے پاس دنىا کى تمام چىزىں اور کئى ہزار روپے نقد موجود ہىں، مىں اراضى اوردنىوى سازو سامان مہىا کرسکتا تھا، لىکن ہمىں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… تذکرہ علماء ومشائخ پاکستان وہند،۱/۴۶۳ ملخصا